مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 583
583 میں چونکہ اکثر قرآنی آیات تھیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے غلط پڑھنا شروع کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلو ۃ والسلام نے فرمایا یہ بھی موزوں نہیں۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے پڑھنا شروع کیا۔انہوں نے یہ خیال کیا کہ پہلے دونوں کی آواز میں چونکہ بلندی اور گرج نہیں تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا طریق بیان پسند نہیں فرمایا چنانچہ انہوں نے بڑے زور کے ساتھ گرج کی سی آواز میں پڑھنا شروع کیا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی آواز جلد ہی بیٹھ گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تشریف رکھیں۔غرض مضمون کو آہستگی سے اور ایسے رنگ میں پڑھنا چاہئے کہ سامعین پڑھنے والے کی آواز میں سموئے جائیں۔جب تک سامعین پڑھنے والے کی آواز میں سموئے نہیں جاتے اور جب تک ان کا پڑھنے والے کی آواز کے ساتھ اشتراک نہیں پیدا ہو تا اس وقت تک تقریر میں زور پیدا کرنا ان کو قریب کرنے کی بجائے دور کرتا ہے۔پھر تقریر کرنے والے کو اپنا مضمون اس طرح بیان کرنا چاہئے کہ اسے سارے مضمون کے سارے پہلو مد نظر ہوں۔بعض دفعہ تقریر کرنے والا اپنا مضمون ایسے طور سے بیان کرتا ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا طریق بیان درست ہے لیکن جن شقوں کی وجہ سے وہ اسے واضح محسوس کرتا ہے وہ سامعین کو معلوم نہیں ہو تیں۔اس لئے اس کی تقریر بے کار ہو جاتی ہے۔مثلاً آج ہی بعض مقررین نے کہا ہے کہ یہ بات تو واضح ہے لیکن یہ فقرہ وہاں کہا جاتا ہے جہاں تقریر کرنے والا کسی منطقی نقطہ کی طرف پہلے اشارہ کر دیتا ہے۔مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر عقل اور سمجھ رکھی ہے پھر ہم کہتے ہیں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب ایک انسان کے سامنے کوئی غیر معقول بات پیش کی جائے گی تو وہ اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔چونکہ ہم نے ایک ایسی بات پیش کی ہے جس کو دنیا کے سب لوگ جانتے ہیں اور پھر یہ بات پیش کی کہ اگر انسان کے سامنے کوئی غیر معقول بات رکھی جائے تو وہ اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہو تا تو یہ بات بج جائے گی لیکن اگر ہم کہیں گے کہ یہ بات واضح ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ظہور ہونا چاہئے تھا تو یہ بات ہمارے لئے تو واضح ہوگی کہ دنیا کے حالات اس قسم کے ہیں کہ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور مبعوث ہو لیکن ایک مخالف تو یہ بات نہیں مانتا۔پس ہر بات کہتے وقت یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ آیا سننے والا اسے سمجھ سکے گایا نہیں۔اس کے بعد اس مجلس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک تقریریں کرانے کا یہ طریق جو نکالا گیا ہے ، غلط ہے۔بعض تقریریں کرنے والوں نے ایسے مضامین منتخب کئے ہیں جو بہت ہی اہم ہیں لیکن وہ دو منٹ کے بعد چپ ہو گئے۔دو منٹ میں مضمون کی ماہیت کو بیان کرنا بھی مشکل ہے اس لئے یہ طریق غلط ہے۔پھر یہ کہنا کہ تقریر کے لئے نام لکھا دو یہ طریق بھی غلط ہے۔یہ علم کے مظاہرہ کا موقعہ ہے۔یہ اجلاس عام انجمنوں کا اجلاس نہیں۔یہ وہ اجلاس ہے جس میں یہ مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے نوجوانوں کو اتنی مشق کرائی ہے۔مثلاً جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تقریر کے لئے بعض دفعہ بڑے بڑے عالموں کا بھی نام آجاتا ہے لیکن میں وہ نام کاٹ دیتا ہوں اور کہتا