مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 582

582 مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کے بارہ میں خدام کو ضروری ہدایات ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی رات کے وقت بھی مقام اجتماع میں تشریف لائے۔اس وقت خدام کے تقریری مقابلے ہو رہے تھے جن کے اختتام پر حضور نے بھی خدام سے خطاب فرماتے ہوئے انہیں بیش قیمت ہدایات سے نوازا تھا۔یہ ہدایات رسالہ خالد اکتوبر ۱۹۶۲ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھیں۔(مرتب) " ” دوسری بات میں لیکچراروں کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جلدی جلدی اور زور کے ساتھ بولا جائے تو تقریر زیادہ موثر ہوتی ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔نہ جلدی جلدی بولنا تقریر کے اندر اثر پیدا کرتا ہے اور نہ زور سے بولنا تقریر کے اندر اثر پیدا کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی تقریر میں بے موقعہ زور سے بولتا ہے تو تقریر کا اثر کم ہو جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ گلے سے اوپر بول رہا ہے ، دی سے نہیں بول رہا اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ پندرہ سولہ منٹ کے بعد ہی گویائی سے محروم ہو جاتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ لیکچر لکھا جو آریوں کی مجلس میں پڑھا گیا اور جس کے نتیجہ میں چشمہ معرفت "کتاب لکھی گئی۔اس وقت مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو چکے تھے۔ان جیسی آواز والا جماعت میں اور کوئی شخص موجود نہ تھا اور یہ سوال در پیش تھا کہ یہ تقریر کون پڑھے۔تجویز یہ ہوئی کہ مقابلہ کر کے دیکھا جائے کہ کون شخص زیادہ موزوں ہے کہ اسے تقریر پڑھنے کے لئے کہا جائے۔مختلف لوگوں نے وہ تقریر پڑھی۔بڑے بڑے لوگوں میں سے حضرت خلیفہ المسیح الاول، مرزا یعقوب بیگ صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تھے۔ان کے علاوہ اور لوگ بھی تھے۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی لیکن میں خیال کرتا تھا (شاید یہ اندازہ اب موجودہ عمر کے لحاظ سے ہو) کہ اگر میں وہ تقریر پڑھتا تو غالبا اچھی پڑھتا لیکن حضرت خلیفہ المسیح الاول کی آواز زیادہ بلند نہ تھی۔اگر چہ آہستہ آہستہ زور پکڑ کر وہ موثر ہو جایا کرتی تھی لیکن وہ اس مقام پر نہیں پہنچتی تھی جہاں تقریر کرنے والا جوش کے ساتھ سامعین کو اپنے ساتھ بہالے جایا کرتا ہے۔یوں تقریر کے لحاظ سے آپ کی آواز میں بڑا اثر تھا اور مضمون سامعین کے ذہن نشین ہو جاتا اور ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا تھا لیکن پڑھنے میں یہ طریق کامیاب نہیں ہو تا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے وہ مضمون پڑھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے پڑھنے کے طریق پر مطمئن نہ ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کے بعد مرزا یعقوب بیگ صاحب نے مضمون پڑھنا شروع کیا۔ان کی آواز باریک تھی۔دوسرے وہ عربی سے ناواقف تھے اور مضمون