مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 584

584 ہوں کہ انہیں پہلے باہر مشق کرالو۔اسی طرح خدام الاحمدیہ کا سٹیج ہے۔یہاں یہ مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنے خدام کو تقریر کرنے کی کتنی مشق کرائی ہے اور ان کے ذہنوں میں کتنی جلا پیدا کر دی ہے۔پس ایسے موقعہ پر یہ کہنا کہ تقریروں کے لئے نام لکھوا دو لکھوار و غلط ہے۔کچھ مضامین پہلے چن لینے چاہئیں اور انہیں باہر بھجوا دینا چاہئے اور بعض ایسے سرکل بنا دینے چاہئیں جن میں سے ایک ایک نمائندہ لے لیا جائے۔پھر انہیں اختیار دیا جائے کہ وہ اپنی میٹنگ کریں اور اس موضوع پر جس پر ان کے نمائندہ نے اجتماع کے موقعہ پر تقریر کرنی ہے خوب بحث کریں اور دلائل بیان کریں۔پھر جو نمائندہ منتخب ہو وہ ان دلائل میں سے کچھ دلائل چن لے اور نوٹ لکھ لے۔یہاں تقریر زبانی ہو لیکن تقریر کرنے والے کو یہ اختیار دینا چاہئے کہ وہ اس کے لئے بعض نوٹ لکھ لے۔پھر ان لیکچراروں کو کم از کم ہیں منٹ ملنے چاہئیں۔اس طرح دو گھنٹے میں چھ لیکچر ہو جائیں گے۔جہاں تک تحریری مضامین کا سوال ہے اس بات کی ضرورت نہیں کہ یہاں یہ کہا جائے کہ دوست اس امتحان میں شامل ہونے کے لئے اپنا نام لکھوا دیں بلکہ پرچے بنا کر باہر بھیجوا دینے چاہئیں۔خدام ان پر چوں کی تیاری کریں اور جب یہاں آئیں تو وہ امتحان کے لئے اپنا نام لکھوا دیں۔یہاں سپروائزروں کے سامنے بیٹھ کر وہ مضامین لکھیں اور ہر سال ایسا کریں۔جو گروپ قابل ہو جائیں ان کی جگہ دوسرے گروپ لے لئے جائیں۔اس طرح قدم بہ قدم تمام جماعتوں کے سرکل مقرر کر کے مضامین لکھواؤ۔اگر آپ لوگوں نے مضمون نویسی کی مشق کرانی ہے تو بے شک امتحان میں شامل ہونے والی کتابیں بھی ساتھ لے آئیں۔انہیں یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ضروری کتابیں دیکھ سکیں لیکن کسی سے مشورہ نہ لیں۔بہر حال انہیں یہ موقعہ دینا چاہئے کہ وہ مختلف کتابوں سے استنباط کر کے مضامین لکھیں۔آخر ہم مضامین لکھتے ہیں تو کیا فرشتے آکر ہمیں نوٹ لکھواتے ہیں۔ہم بھی دوسری کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان سے مسائل اخذ کر کے مضامین لکھتے ہیں۔ہمارا یہ مقصد نہیں ہونا چاہئے کہ ہمارے نوجوان علوم مروجہ کو استعمال کرنا زیادہ سے زیادہ جانتے ہوں۔جس طرح کتابوں کا امتحان ہو تا ہے ایک امتحان اس قسم کا بھی ہو لیکن ضروری ہے کہ ایک مضمون مقرر کر دیا جائے۔مثلا وفات مسیح کا مضمون ہے۔ایک سال کے لئے یہ مضمون مقرر کر دیا جائے۔بے شک آپ بعض سوالات بھی دے دیں۔مثلا کسی نے نئے رنگ میں کوئی اعتراض کیا ہے یا کوئی پر انا اعتراض زیادہ اہم ہو گیا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان سوالات کو مد نظر رکھ کر مضمون لکھا جائے۔صرف شرط یہ ہوگی کہ مضمون اس جگہ لکھنا ہو گا اور سپروائزر کی نگرانی میں لکھنا ہو گا تا معلوم ہو کہ لکھنے والا وہی ہے۔ہمارا اصل مقصد یہ نہیں کہ خدام کی ذہانت کا امتحان لیا جائے بلکہ ہم نے ان کے علم کا امتحان لینا ہے اور علم کتابوں کے مطالعہ سے پیدا ہوتا ہے۔پس آئندہ یہ طریق بند کیا جائے اور علاقے اور سرکل مقرر کر دیئے جائیں اور ان سے ایک ایک نمائندہ اس امتحان میں شمولیت کے لئے لیا جائے۔انہیں مضمون پہلے بتا دیا جائے اور یہ اجازت دی جائے کہ لوکل مجلس کے تمام خدام اپنی ایک میٹنگ منعقد کریں اور اپنے نمائندہ کو دلائل لکھوائیں۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ساری کی ساری جماعت اس مضمون کی تیاری میں شامل ہوگی اور ہر خادم۔