مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 779
779 لگے فیتھ از بلائنڈ (faith is blind یعنی یقین اور ایمان اندھا ہوتا ہے ، وہ خطرات کی پرواہ نہیں کرتا۔جب کسی شخص میں ایمان پایا جاتا ہو تو اسے آنے والے مصائب کا کوئی فکر نہیں ہو تا۔جب منافقین کا فتنہ اٹھا تو انہی کرنل صاحب نے ایک احمدی افسر کو جو ان کے قریب ہی رہتے تھے ، بلایا اور کہا کہ میری طرف سے مرزا صاحب کو کہہ دینا کہ آپ نے یہ کیا کیا ہے۔اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا تھی ، اس مضمون سے اسے بلا ضرورت شہرت مل جائے گی۔میں نے اس احمدی دوست کو خط لکھا کہ میری طرف سے کرنل صاحب کو کہہ دینا کہ آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ جماعت پر ۵۳ ء والے واقعات دوبارہ آنے والے ہیں۔آپ ابھی سے تیاری کر لیں۔اب جب کہ میں نے اس بارہ میں کارروائی کی ہے تو آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ آپ خواہ مخواہ فتنہ کو ہوا دے رہے ہیں۔جب میں دوبارہ مری گیا تو میں نے اس احمدی دوست سے پوچھا کہ کیا میرا خط آپ کو مل گیا تھا اور آپ نے کرنل صاحب کو میرا پیغام پہنچا دیا تھا۔انہوں نے کہا ہاں میں نے پیغام دے دیا تھا اور انہوں نے بتایا تھا کہ اب میری تسلی ہو گئی ہے۔شروع میں میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ معمولی بات ہے لیکن اب جب کہ پیغامی اور غیر احمدی دونوں فتنہ پردازوں کے ساتھ مل گئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ عقلمندی اور کوئی نہیں تھی کہ آپ نے وقت پر اس فتنہ کو بھانپ لیا اور شرارت کو بے نقاب کر دیا۔غرض خدا تعالی ہر فتنہ اور مصیبت کے وقت جماعت کی خود حفاظت فرماتا ہے چنانچہ فتنہ تو اب کھڑا کیا گیا ہے لیکن خدا تعالٰی نے ۱۹۵۰ء میں ہی کو ئٹہ کے مقام پر مجھے بتا دیا تھا کہ بعض ایسے لوگوں کی طرف میفتنہ اٹھایا جانے والا ہے جن کی رشتہ داری میری بیویوں کی طرف سے ہے چنانچہ دیکھ لو عبد الوہاب میری ایک بیوی کی طرف سے رشتہ دار ہے۔میری اس سے جدی رشتہ داری نہیں۔پھر میری ایک خواب جنوری ۳۵ء میں الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔اس میں بتایا گیا تھا کہ میں کسی پہاڑ پر ہوں کہ خلافت کے خلاف جماعت میں ایک فتنہ پیدا ہوا ہے چنانچہ جب موجودہ فتنہ ظاہر ہوا اس وقت میں مری میں ہی تھا۔پھر اس خواب میں میں نے سیالکوٹ کے لوگوں کو دیکھا جو موقع کی نزاکت کو سمجھ کر جمع ہو گئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ ان لوگوں کو بھی دیکھا جو باغی تھے۔یہ خواب بھی بڑے شاندار طور پر پوری ہوئی چنانچہ اللہ رکھا سیالکوٹ کا ہی رہنے والا ہے۔جب میں نے اس کے متعلق الفضل میں مضمون لکھا کہ تو خود اس کے حقیقی بھائیوں نے مجھے لکھا کہ پہلے تو ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید اس پر ظلم ہو رہا ہے لیکن اب ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ وہ پیغامی ہے اور اس نے ہمیں جو خطوط لکھے ہیں ، وہ پیغامیوں کے پتہ سے لکھے ہیں پس ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ہم خلافت سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔اب دیکھ لو ۳۴ء میں مجھے اس فتنہ کا خیال کیسے آسکتا تھا۔پھر ۵۰ ء والی خواب بھی مجھے یاد نہیں تھی۔۵۰ء میں میں جب سندھ سے کوئٹہ گیا تو اپنی ایک لڑکی کو جو بیمار تھی ساتھ لے گیا۔اس نے اب مجھے یاد کرایا کہ ۵۰ء میں آپ نے ایک خواب دیکھی تھی جس میں یہ ذکر تھا کہ آپ کے رشتہ داروں میں سے کسی