مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 780 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 780

780 نے خلافت کے خلاف فتنہ اٹھایا ہے۔میں نے مولوی محمد یعقوب صاحب کو وہ خواب تلاش کرنے پر مقرر کیا چنانچہ وہ الفضل سے خواب تلاش کر کے لے آئے۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے کتنی دیر پہلے مجھے اس فتنہ سے آگاہ کر دیا تھا اور پھر کس طرح یہ خواب حیرت انگیز رنگ میں پورا ہوا۔ہماری جماعت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ منافقت کی جڑ کو کاٹنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اگر اس کی جز کو نہ کاٹا جائے تو وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفتهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جماعت سے جو وعدہ فرمایا ہے ، اس کے پورا ہونے میں شیطان کئی قسم کی رکاوٹیں حائل کر سکتا ہے۔دیکھو خد اتعالیٰ کا یہ کتنا شاندار وعدہ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پورا ہوا۔حضرت ابو بکر کی خلافت صرف اڑھائی سال کی تھی لیکن اس عرصہ میں خدا تعالیٰ نے جو تائید و نصرت کے نظارے دکھائے وہ کتنے ایمان افزا تھے۔حضرت ابو بکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنی غلام تھے لیکن انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں رومی فوجوں کو گاجر مولی کو طرح کاٹ کر رکھ دیا۔آخر اڑھائی سال کے عرصہ میں لاکھوں مسلمان تو نہیں ہو گئے تھے۔اس وقت قریب قریباً وہی مسلمان تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے لیکن خلافت کی برکات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں وہ شان اور امنگ اور جرات پیدا کی کہ انہوں نے اپنے مقابل پر بعض اوقات دو دو ہزار گنا زیادہ تعداد کے لشکر کو بری طرح شکست کھانے پر مجبور کر دیا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو آپ نے ایک طرف رومی سلطنت کو شکست دی تو دوسری طرف ایران کی طاقت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر کے رکھ دیا۔پھر حضرت عثمان کی خلافت کا دور آیا۔اس دور میں اسلامی فوج نے آذربائیجان تک کا علاقہ فتح کر دیا اور پھر بعض مسلمان افغانستان اور ہندوستان آئے اور بعض افریقہ چلے گئے اور ان ممالک میں انہوں نے اسلام کی اشاعت کی۔یہ سب خلافت کی ہی برکات تھیں۔یہ برکات کیسے ختم ہو ئیں؟ یہ اسی لئے ختم ہو ئیں کہ حضرت عثمان کے آخری زمانہ خلافت میں مسلمانوں کا ایمان بالخلافت کمزور ہو گیا اور انہوں نے خلافت کو قائم رکھنے کے لئے صحیح کو شش اور جدوجہد کو ترک کر دیا۔اس پر اللہ تعالی نے بھی وعد الله الذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيُستخلَفَتْهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلف الذين من قبلهم كا وعدہ واپس لے لیا لیکن عیسائیوں میں دیکھ لو انہیں سو سال سے برابر خلافت چلی آرہی ہے اور آئندہ بھی اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔آخر یہ تفاوت کیوں ہے اور کیوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت تمہیں سال کے عرصہ میں ختم ہو گئی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمانوں نے خلافت کی قدر نہ کی اور اس کی خاطر قربانی کرنے سے انہوں نے دریغ کیا۔جب باغیوں نے حضرت عثمان پر حملہ کیا تو آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے لوگو میں وہی کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے حضرت ابو بکر اور عمر کیا کرتے تھے۔میں نے کوئی نئی بات نہیں کی لیکن تم فتنہ پرداز لوگوں کو اپنے گھروں میں آنے دیتے ہو اور ان سے باتیں کرتے ہو۔اس سے یہ لوگ دلیر ہو گئے ہیں لیکن تمہاری اس غفلت کا