مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 778
778 بارڈر کراس کرنے لگے تو سکھوں نے انہیں آلیا اور وہ مارے گئے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ پیدل قافلہ قادیان سے نکلتے ہی سکھوں کے ہاتھوں مارا گیا اور اگر وہاں سے محفوظ نکل آیا تو بٹالہ آکر یا فتح گڑھ چوڑیاں کے پاس مارا گیا لیکن وہ میری ہدایت کے مطابق قادیان میں بیٹھے رہے اور میری اجازت کا انتظار کرتے رہے۔وہ سلامتی کے ساتھ لاریوں میں سوار ہو کر لاہور آئے۔غرض ہر میدان میں خدا تعالیٰ نے جماعت کو خلافت کی برکات سے نوازا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت انہیں یاد رکھے مگر بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ انہیں یاد نہیں رکھتے۔پچھلے مہینے میں ہی میں نے ایک رویا دیکھا تھا کہ کوئی غیر مرئی وجود مجھے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو وقفہ وقفہ کے بعد جماعت میں فتنہ پیدا ہونے دیتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ جماعت کس طرح آپ کے پیچھے پیچھے چلتی ہے یا جب آپ کسی خاص طرف مڑیں تو کسی سرعت کے ساتھ آپ کے ساتھ مڑتی ہے یا جب آپ اپنی منزل مقصود کی طرف جائیں تو وہ کس طرح اسی منزل مقصود کو اختیار کر لیتی ہے۔(الفضل ۵ ستمبر ۱۹۵۷ء) اب دیکھو یہ فتنہ بھی جماعت کے لئے ایک آزمائش تھی لیکن بعض لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے کہ اس میں حصہ لینے والے حضرت خلیفہ اول کے لڑکے ہیں۔انہوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی آپ کا انکار کیا تھا اور اس انکار کی وجہ سے وہ عذاب الہی سے بچ نہ سکا۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد کے اس فتنہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہمیں کس بات کا خوف ہے۔اگر وہ فتنہ میں ملوث ہیں تو خدا تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔شروع شروع میں جب فتنہ اٹھا تو چند دنوں تک بعض دوستوں کے گھبراہٹ کے خطوط آئے اور انہوں نے لکھا کہ ایک چھوٹی سی بات کو بڑا بنا دیا گیا ہے۔اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد ساری جماعت اپنے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ان لوگوں سے نفرت کرنے لگ گئی اور مجھے خطوط آنے شروع ہوئے کہ آپ کے اور بھی بہت سے کارنامے ہیں مگر اس بڑھاپے کی عمر میں اور ضعف کی حالت میں جو یہ کارنامہ آپ نے سرانجام دیا ہے، یہ اپنی شان میں دو سرے کارناموں سے بڑھ گیا ہے۔آپ نے بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ ان لوگوں کو نگا کر دیا ہے جو بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور سلسلہ کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔اس طرح آپ نے جماعت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچالیا ہے۔مری میں مجھے ایک غیر احمدی کرنیل ملے۔انہوں نے کہا کہ جو واقعات ۵۳ء میں احمدیوں پر گزرے تھے وہ اب پھر ان پر گزرنے والے ہیں اس لئے آپ ابھی سے تیاری کرلیں اور میں آپ کو یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ ۵۳ء میں تو پولیس اور ملٹری نے آپ کی حفاظت کی تھی لیکن اب وہ آپ کی حفاظت نہیں کرے گی کیونکہ اس وقت جو واقعات پیش آئے تھے ان کی وجہ سے وہ ڈر گئی ہے۔جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا کرنل صاحب پچھلی دفعہ میں نے کون سا تیر مارا تھا جو اب ماروں گا۔پچھلی دفعہ بھی خدا تعالٰی نے ہی جماعت کی حفاظت کے سامان کئے تھے اور اب بھی وہی اس کی حفاظت کرلے گا۔جب میرا خدا زندہ ہے تو مجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میری اس بات کا کرنل صاحب پر گہرا اثر ہوا چنانچہ جب میں ان کے پاس سے اٹھا اور دہلیز سے باہر نکلنے لگا تو وہ کہنے