مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 772
772 اور محنت بھی نہیں کرتا۔اس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو اس بات پر یقین ہو کہ وہ خلافت کے ذریعہ ہی ترقی کر سکتے ہیں اور پھر اس کی شان کے مطابق کام بھی کریں تو ہمارا وعدہ ہے کہ ہم انہیں خلیفہ بنائیں گے لیکن اگر انہیں یقین نہ ہو کہ ان کی ترقی خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اور وہ اس کے مطابق عمل بھی نہ کرتے ہوں تو ہمارا ان سے کوئی وعدہ نہیں چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت ہوئی اور پھر کیسی شاندار ہوئی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے۔اس وقت انصار نے چاہا کہ ایک خلیفہ ہم میں سے ہو اور ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر حضرت عمر اور بعض صحابہ فورا اس جگہ تشریف لے گئے جہاں انصار جمع تھے اور آپ نے انہیں بتایا کہ دیکھو دو خلیفوں والی بات غلط ہے۔تفرقہ سے اسلام ترقی نہیں کرے گا۔خلیفہ بہرحال ایک ہی ہو گا۔اگر تم تفرقہ کرو گے تو تمہارا شیرازہ بکھر جائے گا۔تمہاری عزتیں ختم ہو جائیں گی اور عرب تمہیں تکا بوٹی کر ڈالیں گے۔تم یہ بات نہ کرو۔بعض انصار نے آپ کے مقابل پر دلائل پیش کرنے شروع کئے۔حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے خیال کیا کہ حضرت ابو بکر کو تو بولنا نہیں آتا۔میں انصار کے سامنے تقریر کروں گا لیکن جب حضرت ابو بکر نے تقریر کی تو آپ نے وہ سارے دلائل بیان کر دیئے جو میرے ذہن میں تھے اور پھر اس سے بھی زیادہ دلائل بیان کئے۔میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ آج یہ بڑھا مجھ سے : گیا ہے۔آخر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ خود انصار میں سے بعض لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا حضرت ابو بکر جو کچھ فرما رہے ہیں وہ ٹھیک ہے۔مکہ والوں کے سوا عرب کسی اور کی اطاعت نہیں کریں گے۔پھر ایک انصاری نے جذباتی طور پر کہا اے میری قوم! اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں اپنا ایک رسول مبعوث فرمایا۔اس کے اپنے رشتہ داروں نے اسے شہر سے نکال دیا تو ہم نے اسے اپنے گھروں میں جگہ دی اور خدا تعالیٰ نے اس کے طفیل ہمیں عزت دی۔ہم مدینہ والے گمنام تھے ، ذلیل تھے مگر اس رسول کی وجہ سے ہم معزز اور مشہور ہو گئے۔اب ہم اس چیز کو جس نے ہمیں معزز بنائی کافی سمجھو اور زیادہ لالچ نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ ہمیں اس کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے۔اس وقت حضرت ابوبکر" نے فرمایا کہ دیکھو خلافت کو قائم کرنا ضروری ہے باقی تم جس کو چاہو خلیفہ بنالو۔مجھے خلیفہ بننے کی کوئی خواہش نہیں۔آپ نے فرمایا یہ ابو عبیدہ ہیں۔ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امین الامت کا خطاب عطا فرمایا ہے ، تم ان کی بیعت کر لو۔پھر عمر ہیں۔یہ اسلام کے لئے ایک ننگی تلوار ہیں ، تم ان کی بیعت کر لو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ابو بکر اب باتیں ختم کیجئے ہاتھ بڑھائیے اور ہماری بیعت لیجئے۔حضرت ابو بکر کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ نے جرات پیدا کر دی اور آپ نے بیعت لے لی۔بعینہ یہی واقعہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی وفات کے بعد میرے ساتھ پیش آیا جب میں نے کہا میں اس قابل نہیں کہ خلیفہ بنوں۔نہ میری تعلیم ایسی ہے اور نہ تجربہ تو اس وقت بارہ چودہ سو احمد کی جو جمع تھے ، انہوں نے شور مچادیا کہ ہم آپ کے سوا اور کسی کی بیعت کرنا نہیں چاہتے۔مجھے اس وقت بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں تھے۔میں نے کہا مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں۔میں بیعت کیسے لوں۔اس پر ایک دوست کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے بیعت کے الفاظ یاد