مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 771 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 771

771 کھڑے ہو جائیں تاکہ عہد دہرایا جائے"۔حضور کے اس ارشاد پر تمام خدام کھڑے ہو گئے اور حضور نے عہد دہرایا۔عہد دہرانے کے بعد حضور نے فرمایا:۔" آج میں قرآن کریم کی ایک آیت کے متعلق کچھ زیادہ تفصیل سے بیان کرنا چاہتا تھا مگر اس وقت میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اس تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ کل میں نے خطبہ جمعہ بھی پڑھا اور پھر آپ کے اجتماع میں بھی تقریر کی۔اس طرح آج صبح لجنہ اماء اللہ کے اجتماع میں مجھے تقریر کرنی پڑی جس کی وجہ سے مجھے اس وقت کوفت محسوس ہو رہی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ امْتَوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيْسَخْلَفَتهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَن لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَتَهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوفِهِمْ أَمَنَّا يَعْبُدُونَنِي يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَ مَن كَفَرَ بَعد ذ ا لفا ولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (النور: ۵۶) یعنی ہم تم میں سے مومن اور ایمان بالخلافت رکھنے والوں اور اس کے مطابق عمل کرنے والوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو ہم ضرور اس طرح خلیفہ بنا ئیں گے جس طرح کہ پہلی قوموں یعنی یہود اور نصاری میں سے بنائے ہیں۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ خلافت ایک عہد ہے، پیشگوئی نہیں اور عہد مشروط ہو تا ہے لیکن پیشگوئی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ مشروط ہو۔پیشگوئی مشروط ہو تو وہ مشروط رہتی ہے اور اگر مشروط نہ ہو لیکن اس میں کسی انعام کا وعدہ ہو تو وہ ضرور پوری ہو جاتی ہے۔یہاں وعدہ کا لفظ بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ شرط بھی مذکو رہے جس کے معنے یہ ہیں کہ قرآن کریم نے خود اس وعدہ کی تشریح کر دی ہے کہ ہمارا یہ وعدہ کہ ہم تم میں سے مومنوں اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کو اس طرح خلیفہ بنائیں گے جیسے ہم نے ان سے پہلے یہود و نصاریٰ میں خلیفہ بنائے ضروری نہیں کہ پورا ہو۔ہاں اگر تم بعض باتوں پر عمل کرو گے تو ہمارا یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔پہلی شرط اس کی یہ بیان فرماتا ہے کہ وعد الله الذين امنوا منكم تمہیں خلافت پر ایمان رکھنا ہوگا چونکہ آگے خلافت کا ذکر آتا ہے اس لئے یہاں ایمان کا تعلق اس سے سمجھا جائے گا۔وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ پھر تمہیں نیک اعمال بجالانے ہوں گے۔اب کسی چیز پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے مثلا کسی شخص کو اس بات پر ایمان ہو کہ میں بادشاہ بننے والا ہوں یا اسے ایمان ہو کہ میں کسی بڑے عہدہ پر پہنچنے والا ہوں تو وہ اس کے لئے مناسب کوشش بھی کرتا ہے۔اگر ایک طالب علم یہ سمجھے کہ وہ ایم۔اے کا امتحان پاس کرے تو اس کے لئے موقعہ ہے کہ وہ پی۔سی۔ایس پاس کرے یا پروفیشنل سروس میں ای۔اے۔سی بن جائے یا اسٹنٹ کمشنر بن جائے تو پھر وہ اس کے مطابق محنت بھی کرتا ہے لیکن اگر اسے یہ یقین ہو تا ہے کہ وہ ان عہدوں کے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تو وہ ان کے لئے کوشش