مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 773 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 773

ہیں۔میں بیعت کے الفاظ بولتا جاتا ہوں اور آپ دہراتے جائیں چنانچہ وہ دوست بیعت نے الفاظ بولتے گئے اور میں انہیں دہرا تا گیا اور اس طرح میں نے بیعت لی۔گویا پہلے دن کی بیعت دراصل کسی اور کی تھی۔میں تو صرف بیعت کے الفاظ دہراتا جاتا تھا۔بعد میں میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے۔غرض اس وقت وہی حال ہو ا جو اس ہوا تھا جب حضرت ابو بکر خلیفہ منتخب ہوئے تھے۔میں نے دیکھا کہ لوگ بیعت کرنے کے لئے ایک دو سرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔مولوی محمد علی صاحب ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا دوستو غور کرلو اور میری ایک بات سن لو۔مجھے معلوم نہ ہوا کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا ہے کیونکہ اس وقت بہت شور تھا۔بعد میں پتہ لگا کہ لوگوں نے انہیں کہا ہم آپ کی بات نہیں سنتے چنانچہ وہ مجلس سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔اس کے بعد لوگ ہجوم کر کے بیعت کے لئے بڑھے اور ایک گھنٹہ کے اندر اندر جماعت کا شیرازہ قائم ہو گیا۔اس وقت جس طرح میرے ذہن میں خلافت کا کوئی خیال نہیں تھا اسی طرح یہ بھی خیال نہیں تھا کہ خلافت کے ساتھ ساتھ کون سی مشکلات مجھ پر ٹوٹ پڑیں گی۔بعد میں پتہ لگا کہ پانچ چھ سو روپے ماہوار تو اسکول کے اساتذہ کی تنخواہ ہے اور پھر کئی سو کا قرضہ ہے لیکن خزانہ میں صرف سترہ روپے ہیں گویا اس مجلس سے نکلنے کے بعد محسوس ہوا کہ ایک بڑی مشکل ہمارے سامنے ہے۔جماعت کے سارے مالدار تو دوسری پارٹی کے ساتھ چلے گئے ہیں اور جماعت کی کوئی آمدنی نہیں۔پھر یہ کام کیسے چلیں گے لیکن بعد میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی تو بگڑی سنور گئی۔۱۹۱۴ء میں تو میرا یہ خیال تھا کہ خزانہ میں صرف سترہ روپے ہیں اور اساتذہ کی تنخواہوں کے علاوہ کئی سو روپیہ کا قرضہ جو دینا ہے لیکن ۱۹۲۰ء میں جماعت کی یہ حالت تھی کہ جب میں نے اعلان کیا کہ ہم برلن میں مسجد بنائیں گے اس کے لئے ایک لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے تو جماعتوں کی عورتوں نے ایک ماہ کے اندر اندر یہ رو پید اکٹھا کر دیا۔انہوں نے اپنے اپنے زیور اتارا تار کر دے دیئے کہ انہیں بیچ کر رو پید اکٹھا کر لیا جائے۔آج میں نے عورتوں کے اجتماع میں اس واقعہ کا ذکر کیا تو میری ایک بیوی نے بتایا کہ مجھے تو اس وقت پورا ہوش نہیں تھا۔میں ابھی بچی تھی اور مجھے سلسلہ کی ضرورتوں کا احساس نہیں تھا لیکن میری اماں کہا کرتی ہیں کہ جب حضور نے چندہ کی تحریک کی تو میری ساس نے (جو سید ولی اللہ شاہ صاحب کی والدہ تھیں اور میری بھی ساس تھیں) اپنی تمام بیٹیوں اور بہوؤں کو اکٹھا کیا اور کہا تم سب اپنے زیور اس جگہ رکھ دو۔پھر انہوں نے ان زیورات کو بیچ کر مسجد برلن کے لئے چندہ دے دیا۔اس قسم کا جماعت میں ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ سینکڑوں گھروں میں ایسا ہوا کہ عورتوں نے اپنی بیٹیوں اور بہوؤں کے زیورات اتروالئے اور انہیں فروخت کر کے مسجد برلن کے لئے دے دیا۔غرض ایک ماہ کے اندراندر ایک لاکھ روپیہ جمع ہو گیا۔اب دو سال ہوئے میں نے ہالینڈ میں مسجد بنانے کی تحریک کی لیکن اب تک اس فنڈ میں صرف اسی ہزار روپے جمع ہوئے ہیں حالانکہ اس وقت جماعت کی عورتوں کی تعداد اس وقت کی عورتوں سے بیسیوں گنا زیادہ ہے۔اس وقت عورتوں میں اتنا جوش تھا کہ انہوں نے ایک ماہ کے اندر اندر ایک لاکھ روپیہ تمع ردیا اور در حقیقت یہ جماعت کا ایمان ہی تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے نمونہ دکھایا اور اس نے بتایا کہ میں سلسلہ کو مدد