مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 712
712 جلسہ سالانہ کے بارے میں ضروری ہدایات۔لیکن اس خانہ پری میں تمہاری وہ کیفیت نہیں ہونی چاہئے جو جلسہ سالانہ کے منتظمین کی ہوتی ہے کہ پہلے ان کی پرچی خوراک سے ظاہر ہوتا ہے کہ سولہ سترہ ہزار افراد آئے ہیں اور پھر جب لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوتی ہیں کہ لوگ کم کیوں آئے ہیں تو یکدم ان کی تعداد پینتیس ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صحیح نگرانی نہیں ہو سکتی اور خرچ بیکار ہو جاتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جلسہ سالانہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی لوگ آتے ہیں مگر جب بھی چہ میگوئیاں شروع ہوں کہ زیادہ لوگ نہیں آئے تو یکدم تعداد میں تغیر آجاتا ہے۔اسی طرح باہر سے ایک دوست کی چٹھی آئی کہ ہم جلسہ کے دنوں میں فلاں جگہ ٹھہرا کرتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ دس دس بارہ بارہ آدمیوں کے لئے چاول اور پر ہیزی کھانا با قاعدہ آیا کرتا تھا۔ہمارے ساتھ کچھ غیر احمدی دوست بھی تھے۔انہوں نے پوچھا یہ چاول ہمیں کیوں نہیں ملتے۔اس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ بیماروں کے لئے آتے ہیں۔وہ کہنے لگے کیا اس گھر کے رہنے والے سب کے سب بیمار ہیں ؟ یہ بھی ایک نقص ہے جس کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اعداد و شمار کے بارے میں احتیاط کی ضرورت۔یورپ اور امریکہ کے لوگ ان باتوں میں بڑے محتاط ہوتے ہیں اور بڑی صحت کے ساتھ اعداد و شمار بیان کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں گڑ بڑ کر دیتے ہیں اور بعض لوگ تو شاید گڑ بڑ کرنا ثواب کا موجب سمجھتے ہیں حالانکہ ان چیزوں کا نتیجہ الٹ ہو تا ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں جھوٹ کی بھی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔اگر تم چارٹ بنا دو گے تو وہ تمہاری ترقی کے لئے بڑا محرک ہو گا اور پھر دوسرے لوگوں کو بھی تمہارے کاموں کے ساتھ دلچسپی پیدا ہو جائے گی اور انہیں بھی احساس ہو گا کہ تم ایک کام کرنے والی جماعت ہو۔“ (فرموده ۲ دسمبر ۱۹۵۴ء مطبوعہ خالد جنوری ۱۹۵۵ء)