مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 713
713 خدام الاحمدیہ کو نو جوانوں میں جوش اور اخلاص پیدا کرنا چاہئے۔دفتر دوم کے وعدوں کی وصولی کی رفتار بہت کم ہے۔میں نے آج اندازہ لگایا ہے کہ سال ختم ہو چکا ہے لیکن ابھی تک پچاس فیصد وعدے وصول نہیں ہوئے حالانکہ اس سے پہلے دور اوّل میں یہ ہو تا تھا کہ اگر وعدے ایک لاکھ کے ہوئے ہیں تو سال کے اختتام سے پہلے ایک لاکھ سے زائد رقم وصول ہو جاتی تھی پس نوجوانوں میں ہمت اور اخلاص پیدا کرنے کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے اس طرف مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی۔اس کا قیام اس بات کا موجب ہونا چاہئے کہ نوجوانوں میں اخلاص اور جوش زیادہ ہو۔تو میں اگر ترقی کرتی ہیں تو انہیں آئندہ نسلوں کے ذریعہ کرتی ہیں۔اگر ایک نسل اپنا بوجھ اٹھا لیتی ہے تو وہ کام ایک حد تک ہو جاتا ہے۔اگر وہ کام وقتی ہوتا ہے تو کوئی تشویش کی بات نہیں ہوتی کیونکہ انسوں نے اپنا بوجھ اٹھالیا ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ کام وقتی نہیں ہوتا بلکہ اس نے قیامت تک جانا ہوتا ہے تو بہر حال وہ کام اگلی نسلوں کے ذریعہ پورا ہو گا۔پس جماعت کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنے باپ دادوں سے زیادہ قربانی کریں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان کے وعدے اپنے باپ دادوں سے کم ہوں اور وصولی ان سے بھی کم ہو۔میں نے اپنے ایک خطبہ میں یہ تحریک کی تھی کہ کوشش کی جائے کہ ہمارے وعدے دو لاکھ سے چار لاکھ ہو جائیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دوست وصولی کا بھی خیال رکھیں۔ابھی تک نئے دور کے وعدے بہت کم ہیں حالانکہ نوجوانوں کی تعداد پہلے لوگوں سے بہت زیادہ ہو چکی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک جدید کو عام نہیں کیا گیا۔“ فرموده ۷ او سمبر ۱۹۵۴ء مطبوعه الفضل ۲۲ دسمبر (۱۹۵۴ء)