مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 690

690 کے پاس بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ وہ یہ معلوم کرے کہ آٹا پسوانے میں اتنی دیر کیوں ہو گئی ہے۔وہاں یہ لطیفہ ہوا کہ اس دوست نے میاں قدرت اللہ صاحب کے دروازہ پر دستک دی لیکن اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔آخر اس نے بلند آواز سے کہا۔حضور خفا ہو رہے ہیں۔آٹا نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف ہو رہی ہے۔آخر تم بتاؤ تو سہی کہ آٹا پسوانے میں کیوں دیر واقع ہوئی ہے۔آخر میاں قدرت اللہ صاحب باہر نکلے اور کہا اسی غور پیٹے کرنے آں کہ آتا کیڑی چکی توں پسوائیے۔یعنی میں تین دن سے یہ غور کر رہا ہوں کہ آنا کسی چکی سے پسوایا جائے۔گویا آٹا پسوانے کا سوال ہی نہ تھا۔ابھی تو یہ غور ہو رہا تھا کہ آٹا پسوایا کہاں سے جائے۔تو یہ ہمارے ملک کی ریڈ ٹیپ ازم ہے۔ہم ہر معاملہ کو اتنا لٹکاتے ہیں کہ دو منٹ کا کام ہو تو اس پر مہینوں لگ جاتے ہیں۔میرا ناظروں سے روزانہ یہی جھگڑا ہوتا ہے اور انہیں میاں قدرت اللہ صاحب کی ہی مثال دیتا ہوں مثلاً ناظر صاحب بیت المال نے شکایت کی کہ فلاں شخص کے ذمہ سولہ ہزار روپیہ کا نین نکلا ہے اور دو ہزار روپیہ کا غبن اور ہے۔صدر انجمن احمد یہ کہتی ہے کہ جب تم پوری تحقیقات کر لو گے تو اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کونسی مصلحت ہے۔اس معاملہ میں اتنی دیر ہو گئی کہ صدرانجمن احمدیہ کے لئے بعد میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔یا تو ثبوت ضائع ہو جائیں گے یا فریق ثانی کو اس بات کا شکوہ ہو گا کہ وہ کوئی فیصلہ نہیں کر رہے۔معاملہ کو یونہی لٹکایا جارہا ہے - ( مشکلات کا سامنا ہو گیا۔کیونکہ جس شخص نے روپیہ کی ضمانت دی تھی وہ فوت ہو گیا ہے ) اس سے پہلے بھی دو تین کیس ہو چکے ہیں اور اب ان کی طرف سے درخواست آئی ہے کہ ہمیں تنخواہیں دی جائیں۔گویا ایک طرف تو جماعت کا نقصان ہوا اور دوسری طرف یہ جرمانہ ہوا کہ جرم کرنے والوں کو تنخواہیں دی جائیں۔میں نے ناظر صاحب اعلیٰ کو یہی لکھا ہے کہ تم ناظر صاحب بیت المال کو یہ جواب کیوں نہیں دیتے کہ کیا آپ کو ہمارا دستور معلوم نہیں کہ ہم ہر معاملہ کو ہمیشہ لٹکایا کرتے ہیں تا ثبوت ضائع ہو جائیں اور مجرم دو سال کی تنخواہ اور لے لے۔غرض ریڈ ٹیپ ازم کی اتنی مصیبت ہے کہ باوجود کوشش کے احمدیوں سے بھی نہیں جاتی۔خدام میں بھی اس قسم کی غفلت اور سستی پائی جاتی ہے۔میراذاتی تجربہ ہے۔میں نے منور احمد کو دیکھا ہے۔اسے کوئی کام بتاؤ۔چاہے وہ چند منٹ کا ہو وہ اسے دو تین ماہ تک لٹکائے جاتا ہے۔بہر حال چونکہ آپ لوگوں نے اس کے حق میں رائے دی ہے۔اس لئے میں اسے ایک چانس اور دیتا ہوں۔اسے اپنی عادت کی اصلاح کرنی چاہئے۔چاہے رات کو بیٹھ کر کام کرنا پڑے کسی چیز کو زیادہ دیر تک لٹکانا نہیں چاہئے۔میری کئی راتیں ایسی گزری ہیں کہ میں نے رات کو عشاء کے بعد کام شروع کیا اور صبح کی اذان ہو گئی۔تم یہ کیوں نہیں کر سکتے۔اب بھی میرا یہ حال ہے کہ میری اس قدر عمر ہو گئی