مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 689 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 689

689 ہے وہی انگریز کے مقابلہ میں ہماری رفتار ہے۔جس تیزی اور تندہی سے انگریز کام کرتے ہیں ہم نہیں کرتے۔اگر انگریزوں کا ریڈ ٹیپ ازم ہم میں آجائے تو پتہ نہیں ہم میں کس قدر تیزی آجائے۔ایک واقعہ مشہور ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں کس قدر سستی اور غفلت سے کام لیتے ہیں۔راجپوتانہ کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں کسی گھر میں آگ لگ گئی۔پانچ سات میل پر کوئی قصبہ تھا جہاں فائر بریگیڈ تھا۔اس نے وہاں فون کیا کہ میرے گھر کو آگ لگ گئی ہے۔فائر بریگیڈ بھیجو اؤ تا آگ بجھائی جا سکے۔اسے جواب ملا کہ فائر بریگیڈ کو روانگی کا حکم مل چکا ہے اور وہ تمہارے پاس بہت جلد پہنچ جائے گا لیکن یہ جواب تب دیا گیا تھا جب اس کا مکان جل کر دوبارہ بھی تعمیر ہو چکا تھا۔اُس نے اس جواب کے جواب میں لکھا کہ آپ کا شکر یہ مگر اب تو مکان دوبارہ تعمیر ہو چکا ہے۔اب فائر بریگیڈ کی ضرورت نہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ میں ایک دفعہ قادیان کے قریب ایک گاؤں پھیر و پیچی گیا۔وہاں میں اکثر دفعہ جایا کرتا تھا۔وہاں میری کچھ زمین بھی تھی۔شروع میں ہم وہاں خیمے لگا کر رہتے تھے۔ایک دفعہ باورچی نے مجھے اطلاع دی کہ آٹا ختم ہو گیا ہے اس لئے مزید آٹا پسوانے کا انتظام کر دیا جائے۔صرف ایک وقت کا آنا باقی ہے۔مہمان کثرت سے آتے جاتے ہیں اس لئے اس کا انتظام جلد کر دیا جائے۔میں نے ایک دوست کو بلایا ان کا نام قدرت اللہ تھا۔اور وہ میری زمینوں پر ملازم رہ چکے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ آنا ختم ہو چکا ہے۔صرف ایک وقت کا آنا باقی ہے۔مہمان کثرت سے آتے ہیں اس لئے دو بوریاں آٹا پسوالاؤ۔وہاں قریب ہی تمہیں کے قریب پن چھیاں تھیں اس لئے آٹا پسوانے میں کوئی دقت نہیں تھی۔میں نے انہیں یہ ہدایت کی کہ اس بارہ میں سستی نہ کرنا۔یہ نہ ہو کہ مہمانوں کو آنا نہ ہونے کی وجہ سے کوئی تکلیف ہو۔گاؤں سے اتنا آنا نہیں مل سکتا چنانچہ وہ اسی وقت چلے گئے تا آنا پسوانے کا انتظام کریں۔میں نے انہیں چلتے چلتے بھی تاکید کی کہ آنا جلد پسوا کر لانا اس میں سستی نہ کرنا۔دوسرے دن صبح کا وقت آیا۔کھانا تیار ہو کر آگیا اور ہم نے کھالیا۔شام ہوئی تو کھانا آگیا۔میں نے خیال کیا کہ آنا آگیا ہو گا لیکن بعد میں باورچی نے بتایا کہ اس وقت تو ہم نے گاؤں کے دوستوں سے تھوڑا تھوڑا آٹا مانگ کر گزارہ کر لیا ہے۔کل کے لئے آٹا کا انتظام کرنا مشکل ہے۔آپ آٹا پسوانے کا جلد انتظام کر دیں۔اتنے چھوٹے گاؤں میں اس قدر آٹے کا انتظام نہیں ہو سکتا۔میں نے سمجھا چلو اس وقت آٹا نہیں آیا تو صبح آجائے گا لیکن صبح کے وقت بھی آنا نہ آیا۔میں نے کہا۔چلو اس وقت گاؤں سے تھوڑا تھوڑا آنا مانگ کر گزارہ کر لو۔امید ہے شام تک آنا آجائے گا۔ویسے تو گاؤں، میں چار پانچ سو احمدی تھے لیکن کسی ایک گھر سے اس قدر آئے کا انتظام مشکل تھا۔چنکی چنکی آنا مانگنا پڑا تا تھا۔اب 48 گھنٹے گذر چکے تھے لیکن میاں قدرت اللہ صاحب واپس نہ آئے پھر اگلی شام بھی آگئی لیکن میاں قدرت اللہ صاحب واپس نہ آئے چنانچہ پھر گاؤں کے احمدیوں سے آنا مانگ کر گزارہ کیا گیا۔اس پر میں نے ایک آدمی کو میاں قدرت اللہ صاحب