مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 691 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 691

691 ہے۔چلنے پھرنے سے میں محروم ہوں۔نماز کے لئے مسجد میں بھی نہیں جاسکتا لیکن چار پائی پر لیٹ کر بھی میں گھنٹوں کام کرتا ہوں۔پچھلے دنوں جب فسادات ہوئے، میں ان دنوں کمزور بھی تھا اور بیمار بھی لیکن پھر بھی رات کے دودو تین تین بجے تک روزانہ کام کرتا تھا۔چھ ماہ کے قریب یہ کام رہا۔جو لوگ ان دنوں کام کر رہے تھے وہ جانتے ہیں کہ کوئی رات ہی ایسی آتی تھی جب میں چند گھنٹے سوتا تھا۔اکثر رات جاگتے جاگتے کٹ جاتی تھی۔نوجوانوں کے اندر تو کام کرنے کی امنگ ہونی چاہئے۔میاں قدرت اللہ صاحب والا غور انہیں چھوڑ دینا چاہئے۔پس میں آپ سب کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے کاموں میں چستی پیدا کرو۔تیسرے نمبر پر میر داؤد احمد صاحب کے ووٹ زیادہ ہیں۔ان کی عمر طاہر احمد سے زیادہ ہے اور تجربہ بھی اس سے زیادہ ہے اس لئے دوسرے نمبر پر نائب صدر میں انہیں بناتا ہوں لیکن چونکہ میر داد د احمد صاحب تبلیغ کے سلسلہ میں بیرون پاکستان جارہے ہیں اس لئے ان کے چلے جانے کے بعد باقی عرصہ کے لئے مولوی غلام باری صاحب سیف نائب صدر نمبر 2 ہو نگے۔میں نے بتایا ہے کہ ناصر احمد اب انصار اللہ میں چلے گئے ہیں۔ان کے متعلق میں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ انصار اللہ کے صدر ہوں گے۔اگر چہ میرا یہ حکم ڈکٹیٹر شپ کی طرز کا ہے لیکن اس ڈکٹیٹر شپ“ کی وجہ سے ہی تمہارا کام اس حد تک پہنچا ہے ورنہ تمہارا حال بھی صدر انجمن احمدیہ کی طرح ہی ہو تا۔ایک دفعہ ایک جماعت کی طرف سے ایک چٹھی آئی جو سیکرٹری مال کی طرف سے تھی۔انہوں نے تحریر کیا کہ ہمارے بزرگ ایسے نیک اور دین کے خدمت گزار تھے کہ انہوں نے دین کی خاطر ہر ممکن قربانی کی لیکن اب ہم جو ان کی اولاد ہیں، ایسے نالائق نکلے ہیں کہ جماعت پر مالی بوجھ روز بروز زیادہ ہو رہا ہے۔لیکن ہم نے اپنا چندہ اتنے سالوں سے ادا نہیں کیا۔آپ مہربانی کر کے اپنا آدمی یہاں بھجوائیں۔دوستوں کو ندامت محسوس ہو رہی ہے۔چنانچہ یہاں سے نما ئندہ بھیجا گیا اور چند دن کے بعد اس کی طرف سے ایک چٹھی آئی کہ ساری جماعت یہاں جمع ہوئی اور سب افراد اپنی سستی اور غفلت پر روئے اور انہوں نے درخواست کی ہے کہ پچھلا چندہ ہمیں معاف کر دیا جائے۔آئندہ ہم با تقاعدہ چندہ ادا کریں گے اور اس کام میں غفلت نہیں کریں گے۔کچھ عرصہ کے بعد پھر بقایا ہو گیا تو ایک اور چٹھی آگئی کہ مرکز کی طرف سے کوئی آدمی بھیجا جائے۔احباب میں ندامت پیدا ہوئی ہے۔چنانچہ ایک آدمی گیا۔تمام لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے گریہ وزاری کی اور یہ درخواست کی کہ پہلا چندہ معاف کیا جائے۔آئندہ ہم با قاعدہ چندہ ادا کریں گے۔غرض ہر تیسرے سال یہ چکر چلتا۔دو تین آدمی ایسے تھے جو باقاعدہ طور پر چندہ ادا کرتے تھے۔باقی کا یہی حال تھا۔اگر میں مجلس خدام الاحمدیہ کے بارہ میں ڈکٹیٹر شپ استعمال نہ کرتا تو تمہارا بھی میں حال ہو تا۔نوجوانوں کو میں نے پکڑ لیا اور انصار اللہ کو یہ سمجھ کر کہ وہ بزرگ ہیں ان میں سے بعض میرے اساتذہ بھی ہیں' چھوڑ دیا لیکن اب