مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 54

54 کو بیان کروں گا۔اس وقت میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگلے جمعہ کو تمام جماعتوں کے نمائندے آنے والے ہیں شاید آج اس مضمون کا کچھ حصہ رہ جانے میں یہی حکمت ہو کہ میں جماعت کے تمام دوستوں کو براہ راست اس امر کی طرف توجہ دلاؤں کیونکہ اخبار میں خطبہ کا پڑھ لینا اور بات ہے اور زبان سے کوئی بات سننا اور اثر رکھتا ہے۔پس اب چونکہ تمام جماعتوں کے نمائندے یہاں آئے ہوئے ہیں اس لئے میں ان سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر نو جوانوں میں یہ تحریک کریں کہ وہ خدام الاحمدیہ نام کی مجالس قائم کریں۔اس مجلس کے قواعد میں تجویز کر رہا ہوں اور بعض موٹے موٹے قواعد جو میں نے بتائے تھے وہ تو غالبا مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان نے شائع بھی کر دیئے ہیں۔لیکن بہر حال تفصیلی قواعد انہیں پہنچ جائیں گے۔اس وقت اس کے ایک اور حصہ کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو بالخصوص مرکزی مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ کہ نوجوانی میں بے شک خدمت دین کا کام کرنا اچھا ہوتا ہے کیونکہ ادھیڑ عمر میں بعض دفعہ انسان ان کاموں کے کرنے کی ہمت کھو بیٹھتا ہے۔مگر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور کام ہے اور وہ یہ کہ بچوں کے بچوں میں اخلاق حسنہ کی داغ بیل ڈالنا اندر بھی یہی جذبات اور یہی خیالات پیدا کئے جائیں کیونکہ بچپن میں ہی اخلاق کی داغ بیل پڑتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض کاموں کی داغ بیل جوانی میں پڑتی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض کاموں کی داغ بیل بچپن میں پڑتی ہے۔جوانی میں جن کاموں کی داغ بیل پڑتی ہے وہ بالعموم عملی ہوتے ہیں۔جن کے ذریعے انسان کا ذہن برے اور بھلے کی تمیز کر لیتا ہے مگر قومیں صرف برے اور بھلے کی تمیز سے ہی ترقی نہیں کیا کرتیں بلکہ قوم کی ترقی کے لئے اچھی عادتوں کا ہونا بھی ضروری ہو تا ہے۔بے شک عادت بعض لحاظ سے نقصان رساں بھی ہوتی ہے ، مگر عادت در حقیقت قومی ترقی کا ایک ضروری حربہ بھی ہوتی ہے۔کسی قوم کو نیک اخلاق کی عادت ڈال دو وہ خود بخود باقی اقوام پر غالب آنے لگ جائے گی۔اسی طرح جب کسی قوم میں بد عادات پیدا ہو جائیں وہ خود بخود گرتی چلی جاتی ہے اور اگر اسے کسی بات کی بھی عادت نہ ڈالو تو اس قوم میں ایک تزلزل رہے گا۔کبھی اخلاقی رو غالب آگئی تو وہ ترقی کر جائے گی اور اگر اخلاقی رو دب گئی تو وہ گر اخلاقی رود بنے نہ پائے جائے گی۔تو اصل حقیقی چیز یہ ہے کہ اچھی عادت بھی ہو اور علم بھی ہو۔مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جنب عادت کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے اور علم کے زمانہ کی بھی اصلاح کی جائے۔عادت کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے اور علم کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کی ایک شاخ ایسی بھی کھولی جائے جس میں پانچ چھ سال عمر کے بچوں سے لے کر پندرہ سولہ سال کی عمر تک کے بچے شامل ہو سکیں یا اگر کوئی اور حد بندی تجویز ہو تو اس کے ماتحت بچوں کو شامل کیا جائے۔