مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 55

55 بهر حال بچوں کی ایک الگ شاخ ہونی چاہئے اور بچوں کی اصلاح کے نگران بڑی عمر کے لوگ ہوں ان کے الگ نگران مقرر ہونے چاہئیں۔مگر یہ امرید نظر رکھنا چاہئے کہ ان بچوں کے نگران نوجوان نہ ہوں بلکہ بڑی عمر کے لوگ ہوں۔پس خدام الاحمدیہ کو اس مقصد کے ماتحت اپنے اندر کچھ بوڑھے نوجوان بھی شامل کرنے چاہئیں۔یعنی ایسے لوگ جن کی عمریں گو زیادہ ہوں مگر ان کے دل جوان ہوں او ر وہ خدمت دین کے لئے نہایت بشاشت اور خوشی سے کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ایسے لوگوں کے سپرد بچوں کی نگرانی کی جائے اور ان کے فرائض میں یہ امر داخل کیا جائے کہ وہ بچوں کو پنجوقتہ نمازوں میں باقاعدہ لائیں ، سوال و جواب کے طور پر دینی اور مذہبی مسائل سمجھائیں ، پریڈ کرائیں اور اسی طرح کے اور کام ان سے لیں۔جن کے نتیجہ میں محنت کی عادت ، بیچ کی عادت اور بچوں میں تین بنیادی عادات پیدا کر دی جائیں نماز کی عادت ان میں پیدا ہو جائے۔اگر یہ تمین عادتیں ان میں پیدا کر دی جائیں تو یقیناً جوانی میں ایسے بچے بہت کار آمد اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔پس بچوں میں محنت کی عادت پیدا کی جائے ، سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے اور نمازوں کی با قاعدگی کی عادت پیدا کی جائے۔نماز کے بغیر اسلام کوئی چیز نہیں۔اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں میں اسلامی روح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی قوم کے ہر بچہ کو نماز کی عادت ڈالے۔ای طرح سچ کے بغیر اخلاق قومی ترقی کے تین معیار۔اطفال کی تربیت کا اصولی پروگرام درست نہیں ہو سکتے۔جس قوم میں سچ نہیں ، اس قوم میں اخلاق فاضلہ بھی نہیں اور محنت کی عادت کے بغیر سیاست اور تمدن کوئی چیز نہیں۔جس قوم میں محنت کی عادت نہیں اس قوم میں سیاست اور تمدن بھی نہیں۔گویا یہ تین معیار ہیں جن کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوتی۔پس خدام الاحمدیہ کے ارکان کو چاہئے کہ اپنی ایک شاخ بچوں کی بھی قائم کریں۔مگر ان کے نگران ایسے لوگ مقرر کریں جو کم سے کم چالیس سال کے ہوں اور بہتر ہو گا اگر وہ اس سے بھی زیادہ عمر کے ہوں اور اپنے اندر ہمت اور استقلال رکھتے ہوں۔ان کے سپرد یہ کام کیا جائے کہ وہ بچوں کو اپنی نگرانی میں کھلائیں انہیں وقت ضائع کرنے سے بچائیں، نمازوں کے لئے باقاعدہ لے جائیں اور اخلاق فاضلہ ان میں پیدا کریں اور گو تفصیلی طور پر تمام اخلاق کا پیدا کرنا ہی ضروری ہے مگر یہ تین باتیں خاص طور پر ان میں پیدا کی جائیں۔یعنی نمازوں کی باقاعدگی کی عادت ، سچ کی عادت اور محنت کی عادت۔باقی ہمارے ملک میں بعض اور بھی اخلاقی خرابیاں ہیں جن کا دور کرنا ضروری ہے۔