مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 394

394 اگر انہیں کسی ذمہ داری کے کام پر مقرر کیا جائے تو پوری طرح اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے یا اگر روپیہ ان کے ہاتھ دیا جائے تو دیانتدار ثابت نہیں ہوتے۔چنانچہ اس قسم کی شکایات میرے پاس کثرت سے پہنچتی رہتی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ خدام الاحمدیہ کے قیام کی وجہ سے ان شکایتوں میں کوئی کمی آئی ہو۔حالانکہ اصل کام یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ کے عہدہ دار نوجوانوں کے اخلاق کی نگرانی رکھیں اور ان کو اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کریں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ تعلیمی حصہ کی طرف توجہ نہ کریں یا اس میں سستی اور غفلت سے کام لیں۔میر امطلب یہ ہے۔تعلیمی حصہ بعض اور ذرائع سے بھی جماعت کے سامنے بار بار آتارہتا ہے مگر عملی نگرانی کا کام ست ہے۔یعنی ہم نے جو کچھ کہنا ہے اسے کس طرح کہنا چاہئے اور جو کچھ کرنا ہے، کس طرح کرنا چاہئے۔یہ کام ہے جو خدام الاحمدیہ کا ہے پس اس کے ہر فرد کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون سے اخلاق ہیں جو ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں جن کے بعد ہم اپنی تعلیم دنیا تک صحیح رنگ میں پہنچا سکتے ہیں۔اگر ہمارے اندر سچائی نہیں۔اگر ہمارے اندر دیانت نہیں۔اگر ہمارے اندر محنت کی عادت نہیں۔اگر ہمارے اندر عقل نہیں۔اگر ہمارے اندر عزم نہیں۔اگر ہمارے اندر قربانی اور ایثار کا مادہ نہیں تو ہم اپنے پیغام کو خواہ کتنے ہی شاندار الفاظ میں دنیا کے سامنے پیش کریں اور خواہ کس قدر اس کی تشریح اور تفصیل بیان کریں، ہر گز ہر گز اور ہر گز ہم دنیا پر غالب نہیں آسکتے اور ہماری ناکامی اور نامرادی اور شکست میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔پس ضروری ہے کہ اس پہلو کو نمایاں کیا جائے اور نوجوانوں کے اخلاق کی نگرانی رکھی جائے۔جہاں وہ لوگ جو بڑی عمر کے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمی پہلو کو نمایاں کریں کیونکہ آئندہ تمام کام نوجوانوں کو ہی کر نا پڑیگا۔پس خدام الاحمدیہ کی نگرانی کی جائے اور ان میں قوت عملیہ پیدا کی جائے۔دیانت کے بلند معیار تک پہنچنے کی ضرورت مجھے افسوس کے سہاتھ بیان کرنا پڑتا ہے کہ نوجوانوں کے متعلق مجھے نہایت ہی تلخ تجارب ہوئے ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت سندھ کی زمینوں کا کام اس لئے میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مجھ پر اپنی جماعت کے نوجوانوں کے اخلاق کی حقیقت منکشف کرنا چاہتا تھا۔باوجود اس کے کہ مجھے فرصت نہیں تھی اور باوجود اس کے کہ مجھے ان کاموں کے علاوہ تحریک جدید کا بوجھ بھی مجھ پر پڑا ہوا تھا، پھر بھی میں نے سندھ کی زمینوں کا کام اپنی نگرانی میں لے لیا اور مجھے نہایت افسوس کے ساتھ معلوم ہوا کہ ابھی تک دیانت بھی بعض احمد یوں میں نہیں پائی جاتی اور ابھی تک کام کرنے کا صحیح مفہوم بھی بعض نوجوان نہیں جانتے۔ایسے ایسے آدمی بھی ہماری جماعت میں ہیں کہ اگر ان کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ چوبیس گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ بھی اپنا فرض منصبی ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ایسے بھی ہیں جو سلسلہ کی ضروریات کے لئے اپنے اوقات کی ادنیٰ سے ادنی قربانی کرنے کے لئے بھی