مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 395
395 تیار نہیں ہوتے۔چنانچہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ باوجود اس کے کہ سلسلہ کے نفع اور نقصان کا سوال در پیش تھا بعض نوجوان چھ سات گھنٹے کام کرنے کے بعد گھروں میں بیٹھ گئے اور سلسلہ کا دس بیس ہزار روپیہ کا نقصان ہو گیا۔اس میں وہ بھی شامل ہیں جو مجاہد کہلاتے ہیں اور وہ بھی شامل ہیں جو مجاہد تو نہیں کہلاتے مگر عام خدام میں سے ہیں۔خدام میں محنت کی عادت پیدا کرنا بہت ضروری ہے پس یہ حصہ نہایت ضروری ہے اور قوم کے نوجوانوں میں محنت سے کام کرنے کی عادت پیدا کر نا خدام الاحمدیہ کا اہم فرض ہے۔مرکزی کارکنوں کو چاہئے کہ وہ ایسے طریق ایجاد کریں جن سے انہیں معلوم ہو سکے کہ ہر احمدی جو مجلس خدام الاحمدیہ کا نمبر ہے وہ کیا کام کرتا ہے اور اگر کسی کے متعلق معلوم ہو کہ وہ کوئی کام نہیں کر رہا تو اسے کسی نہ کسی کام پر مجبور کیا جائے۔ہمہ گیر نگرانی کی ضرورت اسی طرح آپ لوگوں کو سکولوں اور بور ڈنگوں وغیرہ کا معائنہ کر کے افسروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور ایسی سکیمیں سوچنی چاہئیں جن سے لڑکے پڑھائی میں غفلت نہ کریں۔اسی طرح کھیل کود میں بھی وہ با قاعدگی سے حصہ لیں۔آپ لوگوں کو اس امر کی نگرانی کرنی چاہئے کہ کسی محلہ میں کوئی لڑکا آوارہ نہ پھرے۔آپ لوگوں کو اس امر کی نگرانی کرنی چاہئے کہ کون کون سے نوجوان ہیں جو لغو باتیں کرنے کے عادی ہیں اور پھر ان نوجوانوں کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔اب لوگوں کو اس امر کی نگرانی رکھنی چاہئے کہ دکانوں پر خرید وفروخت کرتے ہوئے دوکاندار اور تاجر دیانتداری سے کام لیتے ہیں یا نہیں۔اسی طرح اور معاملات میں ان کی دیانت اور امانت کا کیا حال ہے۔یہ تمام امور ایسے ہیں جن کی نگرانی رکھنا خدام الاحمدیہ کا کام ہے مگر اب تک اس لحاظ سے خدام الاحمدیہ نے اپنی ذمہ داری کو پوری طرح محسوس نہیں کیا۔میرے پاس رپورٹیں پہنچ رہی ہیں کہ کئی مہینوں سے قادیان میں بلیک مارکیٹ جاری ہے اور دکاندار دھوکہ سے گراں قیمت پر اپنی اشیاء فروخت کرتے رہتے ہیں۔اگر کوئی شخص دکان پر گاہک عن کر آئے تو وہ انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فلاں چیز نہیں ہے لیکن اگر وہ ایک کی بجائے دوروپے دے دے تو چوری چھپے وہ اسے چیز لا کر دے دیتے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ خدام الاحمدیہ کا نظام اتنا وسیع بنا دیا گیا ہے کہ ہر پندرہ سے چالیس سالہ عمر کے نوجوان کا اس مجلس میں شامل ہو نا ضروری ہے ، پھر بھی اس حرکت کا انسداد نہیں کیا گیا بلکہ جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے کئی مہینوں سے قادیان میں ایسا ہو رہا ہے۔مجھے بتایا گیا کہ قادیان میں مجلس خدام الاحمدیہ کے آٹھ سو ممبر ہیں۔میں اس تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے کہتا ہوں اگر مجلس خدام الاحمدیہ اپنے فرائض کو پوری خوش اسلوبی سے ادا کر رہی ہوتی اور اس کے آٹھ سو جاسوس قادیان کے گلی کوچوں