مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 393
393 داریوں سے تعلق رکھتی ہیں اور یا پھر ہمارے عقائد کے متعلق ہیں۔اکثر حدیثیں منتخب کر لی گئی ہیں صرف تھوڑا سا حصہ باقی ہے جس کے متعلق میں امید کرتا ہوں کہ وہ بھی جلد پورا ہو جائے گا۔اس کے علاوہ میری یہ بھی خواہش ہے کہ علماء کی مجلس سے مشورہ لے کر ایک مختصر کو رس شائع کیا جائے جو عقائد فقہ اور اخلاق پر مشتمل ہو۔یعنی کتاب تو ایک ہو مگر اس کا ایک باب علم العقائد کے متعلق ہو۔ایک باب علم الاعمال کے متعلق ہو جس میں فقہی کتابوں میں سے موٹے موٹے عنوانات کے لئے جائیں اور ان کے متعلق جو ضروری مسائل ہیں وہ جمع کر دیے جائیں۔اور تیسر ا حصہ علم الاخلاق کے متعلق ہو جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اخلاق کے متعلق کیا تعلیم دی ہے۔میرا منشاء یہ ہے کہ ایک مختصر سی کتاب تیار ہو جائے جو اڑھائی تین سو صفحوں سے زائد نہ ہو اور جس میں یہ تینوں باب الگ الگ ہوں تاکہ پڑھنے اور یاد کرنے میں سہولت ہو اور پھر اس کورس کا بھی ہر خادم کے لئے پڑھنا ضروری قرار دیا جائے۔دوسر ا حصہ یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے اس کے متعلق ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے کس طرح کہنا ہے۔در حقیقت ہمارے اخلاق کبھی بھی درست نہیں ہو سکتے جب تک ہم اس امر کو اچھی طرح ذہن نشین نہیں کر لیتے کہ ہمیں دوسروں سے کوئی بات کس طرح کہنی چاہئے۔مگر یہ امر یاد رکھو کہ کہنا چاہئے “ میں ”کرنا چاہئے “ بھی شامل ہے۔جس طرح ہم نے کیا کہنا ہے “ میں ”کیا کرنا چاہئے “ بھی شامل ہے اسی طرح کس طرح کہنا چاہئے “ میں کس طرح کرنا چاہئے “ بھی شامل ہے۔اس کی طرف بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔علمی حصہ کی کمی بعض اور ذرائع سے پوری ہوتی رہتی ہے۔مثلا سلسلہ کی طرف سے مختلف کتابیں چھپتی رہتی ہیں۔اخبار شائع ہوتا ہے اور اس طرح علمی لحاظ سے جماعت کے سامنے ہمیشہ مفید معلومات پیش ہوتے رہتے ہیں۔لیکن ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا چاہئے اور کس طرح کرنا چاہئے۔اس کی خالص ذمہ داری خدام الاحمدیہ پر عائد ہوتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں اس لحاظ سے ابھی بہت بڑی کمزوری پائی جاتی ہے۔عملی نمونے کی اہمیت مثلاً علمی لحاظ سے تبلیغ ہمار ا سب سے اہم فرض ہے مگر تبلیغ اچھی طرح تبھی ہو سکتی ہے جب تبلیغ کرنے والے کا عملی نمونہ اعلیٰ درجہ کا ہو۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ ابھی تک اس قسم کی شکایتیں آتی رہتی ہیں کہ نوجوان کہیں باہر سفر پر جاتے ہیں تو ان میں سے بعض ریلوں کے ٹکٹ نہیں لیتے۔بعض غلط ڈبوں میں بیٹھ جاتے ہیں یا دوسروں سے دوستی پیدا کر کے سینما دیکھنے چلے جاتے ہیں یا آپس میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے تو جلدی غصہ میں آجاتے ہیں یا جلدی لڑائی شروع کر دیتے ہیں یا اگر انہیں قاضی کے سامنے کسی معاملہ میں بیان دینا ہے اور وہ بیان ان کے کسی دوست کے خلاف پڑتا ہو یا ان کے ماں باپ یا رشتہ دار کے خلاف پڑ تا ہو تو وہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں یا