مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 341
341 سادگی ہے تو یہ اسلام کے خلاف ہو گا اور اگر تم خاص قسم کی پتلون اور کوٹ پر زور دو تو یہ بھی اسلام کے خلاف ہو گا کیونکہ پاجامہ کے ہوتے ہوئے لنگوٹی باندھنا بھی تکلف ہے اور خاص قسم کے کوٹ اور پتلون پر زور دینا بھی تکلف ہے۔جس طرح یہ تکلف ہے کہ انسان شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹے اپنی آرائش میں مشغول رہے اور استرے اور صابن سے اپنی داڑھی کے بالوں کو اس طرح صاف کرے جس طرح ماں کے پیٹ سے اس کے کلے نکلے تھے۔اسی طرح یہ بھی تکلف ہے کہ انسان ننگے بدن پر بھیجھوت مل کر بیٹھ جائے۔وہ بھی تکلف کرنے والا ہے جو کوٹ اور پتلون پہن کر اور داڑھی منڈا کر اور بالوں میں مانگ نکال کر اور نکٹائی پہن کر باہر نکلتا ہے اور وہ بھی تکلف سے کام لیتا ہے جو باوجو د مقدرت کے ننگے بدن لنگوٹی یا تہ بند باندھ کر نکل کھڑا ہو تا ہے۔پھر جس طرح وہ تکلف کرتا ہے جو کوٹ اور پتلون پہن کر اس طرح چلتا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو تا کوئی آدمی چل رہا ہے بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مشین چل رہی ہے۔میں نے ہاؤس آف لارڈز کے جلسوں میں انگریز نوابوں کو اس طرح چلتے دیکھا ہے۔مجھے تو ان کو دیکھ کر ایسا ہی معلوم ہو تا تھا جیسے کوئی آدمی بے ہوش ہو اور اس کے ساتھ ڈنڈے باندھ کر کوئی کل لگا دی گئی ہو۔بالکل معلوم ہی نہیں ہو تا تھا آدمی چل رہے ہیں۔ایسی آہستگی سے اور سوچ سوچ کر قدم اٹھاتے ہیں کہ ان کا چلنا بھی تکلف معلوم ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں جو شخص بلا وجہ دوڑ پڑتا ہے وہ بھی تکلف سے کام لیتا ہے۔اسی لئے رسول کریم میں ان کی ہیلی نے دوڑ کر نماز باجماعت میں شامل ہونے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ انسانی وقار کے خلاف ہے اور اس میں تکلف پایا جاتا ہے۔اسلام ہم کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم کسی بات میں غلو نہ گریں اور ہر بات میں نیچر اور فطرت کو ملحوظ رکھیں۔ہاں جس حد تک نیچر ہماری ترقی میں روک بنتا ہو اس حد تک اس کو اختیار کرنا ضروری نہیں۔مثلاً جسم کو ننگا رکھنا ہے۔ممکن ہے کوئی شخص کہے کہ جب ہر بات میں نیچر کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے تو جسم کو کپڑوں سے کیوں ڈھانکا جاتا ہے۔ننگے بدن کیوں نہیں پھرا جاتا۔سو یہ بھی درست نہیں کیونکہ اس حد تک نیچر کے پیچھے چلنا انسانی ترقی میں روک پیدا کرتا ہے۔یہ نیچر کا فیصلہ بڑی عمر والوں کے متعلق نہیں بلکہ بچوں کے متعلق ہے۔اسی طرح ناخن بڑھا لینا یہ بھی نیچر کا تقبع نہیں بلکہ اپنے آپ کو وحشی ثابت کرنا ہے۔گو آج کل مغربیت کے اثر کے ماتحت فیشن ایبل عورتوں نے بھی ناخن بڑھانے شروع کر دیئے ہیں۔یورپین عورتیں تو اس میں اس قدر غلو سے کام لیتی ہیں کہ وہ آدھ آدھ انچ تک اپنے ناخن بڑھا لیتی ہیں اور پھر سارا دن ان ناخنوں سے میل نکالنے انہیں صاف کرنے اور ان پر رنگ اور روغن کرنے میں صرف کر دیتی ہیں۔مگر وہ اتنا بڑا گڑھا ہو تا ہے کہ آسانی سے تمام میل نہیں نکل سکتی۔نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ کچھ تو وہ میل نکالتی ہیں اور کچھ اس میل کو چھپانے کے لئے اس پر روغن کرتی ہیں اور چونکہ ناخنوں کی میل کی وجہ سے پھر بھی کچھ نہ کچھ بد بو آتی ہے اس لئے پھر یو ڈی کلون کا استعمال کرتی ہیں۔گویا وہ اپنی عمر کا ایک معتد بہ حصہ صرف ناخنوں کی صفائی پر ہی خرچ کر دیتی ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کو برباد کر دیتی ہیں۔اس قسم کی باتوں میں دوسروں کی تقلید اختیار کرنا محض مغربیت ہے اور جب ہم کہتے ہیں مغربیت کے اثر سے متاثر مت ہو تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں