مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 340
340 طرح شامل ہوں حالانکہ انسان کے پاس جس قسم کا لباس ہو اسی قسم کے لباس میں اسے دو سروں سے ملنے کے لئے چلے جانا چاہئے۔اصل چیز تو نگ ڈھانکنا ہے۔جب ننگ ڈھانکنے کے لئے لباس موجود ہے اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی شخص کی ملاقات سے اس لئے محروم ہو جاتا ہے کہ کہتا ہے میرے پاس فلاں قسم کا کوٹ نہیں یا فلاں قسم کا کرتہ نہیں تو یہ دین نہیں بلکہ دنیا ہے۔اسی طرح اگر کسی کے پاس ٹوپی ہو تو اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ ٹوپی اپنے سر پر رکھ لے لیکن اگر ٹوپی اس کے پاس موجود نہیں تو وہ ننگے سر ہی دوسرے کے ملنے کے لئے جاسکتا ہے۔اگر اس وقت وہ محض اس لئے کسی کو ملنے سے ہچکچاتا ہے کہ ٹوپی اس کے پاس موجود نہیں تو وہ بھی تکلف سے کام لینے والا سمجھا جائے گا۔مجھ سے ایک دفعہ احمدیہ ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے دریافت کیا کہ بعض لڑکے ننگے سرا دھرادھر چلے جاتے ہیں اور ٹوپی سر پر نہیں رکھتے۔اس بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔میں نے کہا ٹوپی کے بغیر کہیں جانا اسلام کے خلاف نہیں لیکن یہ اسلامی تہذیب کے خلاف ضرور ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ بلا وجہ ایسا نہ کیا کریں۔اگر ان کے پاس ٹوپی ہو تو سر پر ٹوپی رکھ لیا کریں۔ہاں اگر ٹوپی نہ ہو تو ننگے سر بھی جاسکتے ہیں۔بہر حال مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر ہمیں کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔مغربی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ ٹوپی کے اتارنے میں عظمت ہے۔چنانچہ عیسائیوں میں جب بادشاہ کے سامنے لوگ جاتے ہیں ٹوپی سر سے اتار لیتے ہیں۔اسی طرح عورت کے سامنے جائیں گے تو ٹوپی اتار لیں گے لیکن اسلامی تہذیب یہ ہے کہ ٹوپی پہنی چاہئے۔یورپین تہذیب یہ کہتی ہے کہ عورت اپنے سر کو نگا رکھے لیکن اسلامی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ عورت اپنے سر کو ڈھانک کر رکھے۔چنانچہ فقہاء نے اس بات پر بحثیں کی ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ نماز میں اگر عورت کے سر کے بال ننگے ہوں تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔پس میں نے انہیں کہا کہ آپ لڑکوں کو یہ بتائیں کہ اسلامی شعار ٹوپی پہننے میں ہے ٹوپی اتارنے میں نہیں۔ہاں اگر کسی کے پاس ٹوپی نہ ہو تو وہ ننگے سر بھی مسجد میں نماز کے لئے جا سکتا ہے۔جس طرح مغربیت ہو گی کہ کسی کے پاس ٹوپی ہو اور وہ پھر بھی اسے نہ پہنے اور ہر وقت بالوں کی مانگ نکالنے ، تیل ملنے اور کنگھی کرنے میں ہی مصروف رہے اسی طرح اگر کسی کے پاس ٹوپی نہ ہو اور پھر بھی وہ مسجد میں نہ جائے یا کوئی اور کام کرنے سے ہچکچائے تو یہ بھی اسلام کے خلاف ہے کہ کوئی شخص خاص قسم کی دھاری دار قمیض پہنناہی ضروری سمجھے اور اگر اس رنگ کی قمیض نہ ملے تو کوئی اور قمیض پہننا اپنے لئے ہتک کا موجب سمجھے۔اسی طرح یہ بھی اسلام کے خلاف ہو گا کہ کسی کے پاس قمیض تو ہو مگر وہ ننگے بدن پھرنے لگ جائے۔اسلام جسمانی حسن کی زیادہ نمائش پسند نہیں کرتا کیونکہ اس طرح کئی قسم کی بدیاں پیدا ہو جاتی ہیں لیکن اسلام یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی ننگے بدن پھرنے لگ جائے کیونکہ ننگے بدن پھرنا بھی کئی قسم کی بدیاں پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔جس طرح اسلام یہ نہیں کہ خاص قسم کی پتلون ہو۔اس میں کسی سلوٹ کا نشان نہ ہو اور اس پر خاص قسم کا کوٹ ہو۔اسی طرح اسلام یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اگر تمہارے پاس پاجامہ نہ ہو تو تم یہ کہو کہ ہم تہہ بند باندھ کر کہیں نہیں جاسکتے۔اگر تمہارے پاس پاجامہ ہو اور تم پاجامہ کی بجائے لنگوٹی باندھ کر کہو کہ یہ