مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 342
342 کہ اپنے اوقات کو ظاہری جسم کی صفائی اور اس کے بناؤ سنگھار کے لئے اس قدر خرچ نہ کرو کہ اور کاموں میں حرج واقع ہونے لگ جائے اور تم دینی کاموں میں حصہ لینے سے محروم رہ جاؤ۔مرد کا حسن اس کے بناؤ سنگھار میں نہیں بلکہ اس کی طاقت الله اللہ ہوں مرد کا حسن اس کے کام میں ہے اور کام میں ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو دنیا میں کام کرنے والے ہیں عورتیں ان سے شادی کرنے کے لئے بیتاب رہتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ شادی کرنے میں ان کی عزت ہے اور ایسے مرد سے وابستہ ہو نا کبھی پسند نہیں کرتیں جو محض ظاہری بناؤ سنگھار کی طرف توجہ رکھتا ہو اور کام کوئی نہ کرتا ہو۔حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم ملی یا اللہ کے پاس بسا اوقات پورے کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے مگر پھر انہی حدیثوں میں ہمیں یہ نظارہ بھی نظر آتا ہے کہ مجلس لگی ہوئی ہے۔رسول کریم میں وعظ فرما رہے ہیں کہ اتنے میں ایک عورت آتی ہے اور کہتی ہے کہ یا رسول اللہ میں اپنا نفس آپ کو دیتی ہوں۔غور کرو یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔میرے نزدیک اپنی زبان سے ایسی بات کہنا ایک عورت کے لئے فریج ہو جانے کے مترادف ہے۔وہ آتی ہے اور اپنا نفس رسول کریم ملی ایل ایل ایل کے لئے پیش کر دیتی ہے حالانکہ اسی مجلس میں اس کا باپ موجود ہوتا ہے۔اس کا بھائی موجود ہوتا ہے اور اس کے اور رشتہ دار موجود ہوتے ہیں۔آخر اس کی کیا وجہ تھی۔یہی وجہ تھی کہ جب وہ رسول کریم ملی دلیل اللہ کے وعظ سنتیں۔آپ کی تقریریں سنتیں۔آپ کی خدمت اسلام کو دیکھتیں۔آپ کے اس سلوک کو دیکھتیں جو آپ بنی نوع انسان سے کیا کرتے تھے تو ان کی محبت جنون کی حد تک پہنچ جاتی اور وہ ہر چیز کو بھول کر رسول کریم می یا اللہ کی مجلس میں آکر کہہ دیتیں یا رسول اللہ ! ہم آپ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہیں۔رسول کریم ملا لا لا لا اور ہر ایک سے کس طرح شادی کر سکتے تھے۔آپ ان سے فرماتے کہ تم مجھے اپنے متعلق اختیار دے دو اور جب وہ اختیار دے دیتیں تو آپ ان کا کسی اور مناسب شخص سے نکاح کر دیتے۔اس قسم کا کوئی ایک واقعہ نہیں ہوا بلکہ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ مجلس لگی ہوئی ہوتی اور عورت آکر کہہ دیتی کہ یا رسول اللہ میں آپ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں۔قرآن نے بھی ان کی اس محبت کو برا نہیں سمجھا بلکہ فرمایا ہم تمہارے اس فعل کو برا نہیں سمجھے۔مگر ایسا صرف ہمارے رسول کو کہنا جائز ہے اور کسی کو تم ایسا نہیں کہہ سکتیں اور گورسول کریم مل ل ل ل ل لیلی نے ساری عمر ایسی عورتوں میں سے کسی ایک سے بھی شادی نہیں کی تاکہ لوگ اس سے کوئی غلط نتیجہ نہ نکال لیں مگر قرآن نے ان عورتوں کو برا نہیں کہا بلکہ اسے ان کے روحانی عشق کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جو سارا دن بناؤ سنگھار کرتے رہتے ہیں ان کو ایسی فدائی عورتیں کہاں ملتی ہیں۔پس در حقیقت مرد کا حسن اس کے کام میں ہے ، ظاہری بناؤ سنگھار میں نہیں۔مشہور ہے کہ عبد الرحیم خان خاناں جو ایک بہت بڑے جرنیل اور بڑے بہادر اور سخی گزرے ہیں انہیں ایک عورت نے لکھا کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔عبدالرحیم خان خاناں نے لکھا کہ مجھے آپ اس بات میں معذور سمجھیں۔وہ عورت کسی اچھے خاندان میں سے تھی۔اس نے پھر لکھا کہ میں تو مررہی ہوں اور