مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 25
25 میں ان کو نہیں مانتا۔دلیل ایسی چاہئے جسے یہ بھی تسلیم کرے اور وہ مجھے آتی نہیں۔آخر کہنے لگے لوگوں سے کیا کہنا ہے۔آؤ خدا سے دعا کرتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے دعا کی۔رات کو گیارہ بجے کے قریب ان کے دروازہ پر کسی نے دستک دی۔انہوں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص جبہ پہنے ہوئے اندر داخل ہوا۔اور کہنے لگا صبح آپ کا فلاں پادری سے مباحثہ ہے میں بھی پادری ہوں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ توحید کے معاملہ میں آپ حق پر ہیں۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ بعض حوالے نوٹ کرلیں کیونکہ ممکن ہے ان حوالوں کا آپ کو علم نہ ہو چنانچہ اس نے تمام حوالے لکھوا دیئے۔اور صبح جب مناظرہ ہوا تو وہ پادری یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ انہیں تو کسی حوالہ کا علم نہ تھا اب یہ کیا ہوا کہ یہ کہیں یونانی کتب کے حوالے دے رہے ہیں تو کہیں عبرانی کتب کے حوالے پڑھ رہے ہیں۔کہیں انگریزی کتب سے اقتباس پیش کر رہے ہیں تو کہیں بائیبل سے توحید کی تعلیم سنا رہے ہیں غرض انہوں نے زبردست بحث کی اور اس پادری کو سخت شکست اٹھانی پڑی۔اسی طرح وہ روزانہ رات کو آتا اور حوالے لکھا جاتا اور صبح آپ خوب دھڑلے سے پیش کرتے بعد میں یہ مباحثہ انہوں نے کتابی صورت میں شائع کر دیا اور مظاہرالحق * اس کا نام رکھا۔ہندوستان میں لوگوں نے اس کتاب سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔اب دیکھو اس پادری کی طبیعت پر حق کا اثر تھا اس نے جب دیکھا کہ آج حق مظلوم ہے تو اس کی حمایت کا اسے جوش آگیا اور اس نے کہا آج تو حید کہیں شکست نہ کھا جائے چنانچہ وہ رات کو آتا اور حوالے لکھا جاتا اور گو وہ لوگوں سے چھپ کر آیا مگر بہر حال آتو گیا۔تو جب کوئی شخص نیک کام کرنے کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ خود بخود لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کر دیتا ہے۔اور وہ اس کی تصدیق اور تائید کرنے لگ جاتے ہیں۔پس قادیان کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنا نیک نمونہ دکھا ئیں خصوصیت سے میں مجلس خدام الاحمدیہ کے اس رکن کو مخاطب کرتا ہوں جس نے مجھے خط لکھا۔اور میں اسے کہتا ہوں کہ تم بھول جاؤ اس امر کو کہ قادیان میں کوئی اور شخص بھی ہے۔تم سمجھو کہ صرف تم پر ہی اس کام کی ذمہ داری عائد ہے۔کیونکہ وہ شخص ہرگز مومن نہیں ہو سکتا جو کہتا ہے کہ میری یہ ذمہ داری ہے اور فلاں کی وہ ذمہ داری ہے۔مومن وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ صرف اور صرف میری ذمہ داری ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم میں ایام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم تجھ سے پوچھیں گے کسی اور سے نہیں۔مگر اس سے مراد بھی صرف رسول کریم میں نہیں۔بلکہ ہر مومن مراد ہے۔اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں تم میں سے ہر شخص سے یہ سوال کروں گا کہ تم نے کیا کیا۔مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے اپنے ایک فعل پر جو گو ایک بچگانہ فعل تھا۔مگر جس طرح بدر کے موقعہ پر ایک انصاری نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے اور اس صحابی کو اپنے اس فقرہ پر ناز تھا۔