مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 26

26 اسی طرح مجھے بھی اپنے اس فعل حضرت مسیح موعود کی نعش مبارک کے سرہانے حضور کا عہد پر ناز ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تو چونکہ آپ کی وفات ایسے وقت میں ہوئی۔جب کہ ابھی بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئی تھیں۔اور چونکہ میں نے عین آپ کی وفات کے وقت ایک دو آدمیوں کے منہ سے یہ فقرہ سنا کہ اب کیا ہو گا۔عبدالحکیم کی پیشگوئی کے متعلق لوگ اعتراض کریں گے۔محمدی بیگم والی پیشگوئی کے متعلق لوگ اعتراض کریں گے وغیرہ وغیرہ۔تو ان باتوں کو سنتے ہی پہلا کام جو میں نے کیا وہ یہ تھا کہ میں خاموشی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاش مبارک کے پاس گیا اور سرہانے کی طرف کھڑے ہو کر میں نے خدا تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا۔اے خدا میں تیرے مسیح کے سرہانے کھڑے ہو کر تیرے حضور یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی پھر گئی تو میں اس دین اور اس سلسلہ کی اشاعت کے لئے کھڑا رہوں گا جس کو تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم کیا ہے۔میری عمر اس وقت انیس سال کی تھی اور انیس سال کی عمر میں بعض اور لوگوں نے بھی بڑے بڑے کام کئے ہیں مگر وہ جنہوں نے اس عمر میں شاندار کام کئے ہیں وہ نہایت ہی شاذ ہوئے ہیں۔کروڑوں میں سے کوئی ایک ایسا ہوا ہے۔جس نے اپنی اس عمر میں کوئی شاندار کام کیا ہو۔بلکہ اربوں میں سے کوئی ایک ایسا ہوا ہے اور مجھے فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس موقع پر یہ فقرہ کہنے کا موقع دیا۔تو مومن کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ سمجھے اصل ذمہ دار میں ہوں۔جب کسی شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ میں اور فلاں ذمہ دار ہیں۔وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان ضائع ہو گیا اور اس کے اندر منافقت آگئی۔ہم میں سے ہر شخص سمجھتا اور کچے دل سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ احمدیت کچی ہے اور اسلام سچاند ہب ہے۔مگر کیا اگر فرض کر لیا جائے کہ کسی وقت سب لوگ فوت ہو جائیں گے یا مقطوع النسل ہو جائیں یا نعوذ باللہ مرتد ہو جائیں اور صرف اکیلا کوئی شخص باقی رو جائے تو وہ اس کام کو چھوڑ دے گا۔یقینا وہ اس کام کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔بلکہ وہ سمجھے گا کہ اس کام کے کرنے کا بہترین وقت یہی ہے کیونکہ جتنے تھوڑے لوگ ہوں گے اسی قدر محم میں تعلیم کا سایہ زیادہ عمدگی سے ان پر پڑے گا۔اگر ایک سیر بھر مصری سمندر میں ڈال دی جائے تو مٹھاس کا پتہ تک نہیں لگ سکتا۔۔لیکن اگر گلاس دو گلاس میں اتنی مصری ملا دی جائے تو بہت زیادہ میٹھا ہو جائے گا۔اسی طرح محمد ملی و یا لیلیوم کا سایہ جب ہزار دو ہزار یا لا کھ دو لاکھ نفوس پر پڑے گا تو وہ پھیل جائے گا۔لیکن جب وہ ایک ہی شخص پر پڑے گا تو وہ مجسم محمد بن جائے گا۔پس اگر ایک نیکی میں تمہیں اکیلے کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو تمہارا دل خوشی سے بلیوں اچھلنا چاہئے کیونکہ تم اس کام میں محمد ا تیل مل کے کل کامل بنو گے اور دوسرا کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا جو رسول کریم ملی ریلی کا سایہ لے رہا ہو۔پس یہ و ہم اپنے دلوں سے نکال دو کہ لوگ تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔