مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 24
24 آسان ہو تا ہے۔پس ان کو اپنے نمونہ سے ایک نیک مثال قائم کرنی چاہئے۔پھر خود بخود نوجوانوں کے دلوں میں تحریک پیدا ہو گی اور وہ بھی ان کے کام میں شریک ہونے کی خواہش کریں گے۔کیونکہ وہ دیکھیں گے کہ باوجود کام کرنے کے یہ زندہ اور ہشاش بشاش ہیں پھر ہمارا کیا بگڑتا ہے اگر ہم بھی کام کریں اور نیک نامی حاصل کریں۔دنیا میں کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اتنا وقت فلاں کام کے لئے دے دیا۔تو دوستوں سے گئیں ہانکنے کے لئے ہمارے پاس کوئی وقت نہیں رہے گا اور اس طرح ہماری ساری بشاشت اور زندہ دلی ماری جائے گی۔مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ کام کرنے والوں کے چہرے بھی ویسے ہی ہشاش بشاش ہیں اور پھر زائد بات یہ ہے کہ انہیں لوگوں میں نیک نامی حاصل ہے تو پھر وہ بھی سمجھتے ہیں کہ دوستوں میں بیٹھ کر دو دو چار گھنٹے گپیں ہانکنے کی نسبت یہ بہتر ہے کہ خدمت خلق کا کوئی کام کیا جائے۔پس افراد کا ان کو کوئی خیال نہیں کرنا چاہئے جو شخص ان کی مجلس میں شامل نہیں ہو تا اس کے متعلق انہیں کوئی شکوہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنا عملی نمونہ بہتر سے بہتر دکھانا چاہئے۔اگر تم نوجوانوں کے لئے کامل نمونہ بن جاؤ تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تم سے نہ ملیں۔وہ اگر نہ ملیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ تمہارے نمونہ میں کوئی نقص ہے۔یہاں بھی اور باہر کی جماعتوں میں بھی کئی غربا ہوتے ہیں۔کئی بیمار ہوتے ہیں جنہیں کوئی دوائی لا کر دینے والا نہیں ہو تا۔کئی بیوائیں ہوتی ہیں جنہیں سودا سلف لا کر دینے والا کوئی نہیں ملتا۔آخر یہ کتنی بے شرمی کی بات ہے کہ ایک شخص بازار میں کسی دوکان پر یا اپنے کسی دوست کے مکان پر بیٹھ کر دو دو تین تین گھنٹے گیں مارتا چلا جاتا ہے۔مگر جب اسے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور خدمت خلق کے لئے تھوڑا سا وقت دو تو وہ کہنے لگ جاتا ہے کیا کروں۔بڑا کام ہے۔ذرا بھی فرصت نہیں ملتی۔حالانکہ جس وقت وہ گئیں مار رہا ہوتا ہے۔جب وہ اپنے نہایت ہی قیمتی وقت کا خون کر رہا ہوتا ہے اسی وقت اس کے محلہ میں ایک بیوہ عورت کے بچے بلک بلک کر رو رہے ہوتے ہیں اور اس کے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہو تا جو اسے آٹالا کر دے یا دال لا کر دے۔آخر یہ لوگ خدا کو کیا جواب دیں گے۔کیا جس وقت وہ یہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی وقت نہیں تھا اس وقت خدا یہ نہیں کہے گا کہ تیرے پاس دو منے گئیں ہانکنے کیلئے تو تھے مگر تجھے پندرہ منٹ کی فرصت نہیں تھی کہ تو اس بیوہ کے بچوں کے لئے سود الا کر دے دیتا۔تو تم اپنا عملی نمونہ جس وقت لوگوں کے سامنے پیش کرو گے۔یہ ناممکن ہے کہ لوگ تم میں شامل ہونے کی خواہش نہ کریں۔یہ سلسلہ تو خدا کا ہے اور اس میں اس کے وہ بندے شامل ہیں جن کو خدا نے اپنی رضا کے لئے چن لیا۔میں کہتا ہوں ایک کافر سے کافر بھی نیک نمونہ دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے ایک استاد مولوی رحمت اللہ صاحب تھے جو بعد میں مدینہ چلے گئے۔وہ بڑے نیک اور بزرگ تھے مگر عیسائی مذہب سے انہیں کوئی واقفیت نہ تھی ایک دفعہ عیسائیوں کے ساتھ ان کا مباحثہ قرار پایا۔ان کے مقابلہ میں جو پادری تھا وہ بڑا ہو شیار اور عالم تھا مگر یہ صرف قرآن اور حدیث جانتے تھے اور چونکہ دانا اور سمجھدار تھے اس لئے کہتے تھے کہ اگر میں نے قرآن اور حدیث کو اس کے سامنے پیش کیا تو وہ کہہ دے گا کہ