مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 279

279 ضروری ہے اور اس میں خود نماز پڑھنا دوسروں کو پڑھوانا اخلاص اور جوش کے ساتھ پڑھنا‘ باوضو ہو کر ٹھر ٹھر کر با جماعت اور پوری شرائط کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔اس کی طرف ہمارے دوستوں کو خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ کئی لوگوں کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ خود تو نماز پڑھتے ہیں مگر ان کی اولاد نہیں پڑھتی۔اولاد کو نماز کو پابند بنانا بھی اشد ضروری ہے اور نہ پڑھنے پر ان کو سزا دینی چاہئے۔ایسی صورت میں بچوں کا خرچ بند کرنے کا تو حق نہیں۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ میں خرچ تو دیتا رہوں گا مگر تم میرے سامنے نہ آؤ جب تک تم نماز کے پابند نہ ہو۔ہاں اگر کوئی بچہ کہہ دے کہ میں مسلمان نہیں ہوں تو پھر البتہ حق نہیں کہ اس پر زور دیا جائے لیکن اگر وہ احمدی اور مسلمان ہے تو پھر اسے سزا دینی چاہئے اور کہہ دینا چاہئے کہ آج سے تم ہمارے گھر نہیں رہ سکتے جب تک کہ نماز کے پابند نہ ہو جاؤ۔تیسری چیز و مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ، یعنی اللہ تعالی نے جو کچھ دیا ہے اس میں تیسری چیز خدمت خلق سے خرچ کیا جائے۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی پہلی چیز جذبات ہیں۔بچہ جب ذرا ہوش سنبھالتا ہے تو محبت اور پیار اور غصہ کو محسوس کرتا ہے۔خوش ہوتا اور ناراض ہوتا ہے۔پھر پیدائش سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں ناک، کان اور ہاتھ پاؤں دیئے ہیں۔پھر بڑا ہونے پر علم ملتا ہے۔طاقت ملتی ہے۔ان سب میں سے تھوڑا تھوڑا خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے۔یہ مطالبہ ایساو سیع ہے کہ اس کی تفصیل کے لئے کئی گھنٹے درکار ہیں اور اس پر ہزار صفحہ کی کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر کتنے لوگ ہیں جو اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔بہت سے ہیں جو تھوڑا بہت صدقہ دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس مطالبہ کو پورا کر دیا۔حالانکہ یہ بہت وسیع ہے۔جہاد کا حکم بھی اس کا ایک جزو ہے۔بعض امراء صدقہ دے دیتے ہیں۔کچھ پیسے خرچ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کر دی۔حالانکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انہوں نے خدا تعالٰی کی دی ہوئی بہت سی چیزوں میں سے ایک کو خرچ کر دیا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب کچھ جو تمہیں دیا گیا ہے ان سب میں سے کچھ کچھ خرچ کرو۔ہماری تائی صاحبہ تھیں۔اسی پچاسی سال کی عمر میں سارا سال روئی کو کتوانا پھرائیاں بنانا ، پھر جلا ہوں کو دے کر اس کا کپڑا بنوانا اور پھر رضائیاں اور تو شکیں بنوا کر غریبوں میں تقسیم کرنا ان کا دستور تھا اور اس میں سے بہت سا کام وہ اپنے ہاتھ سے کرتیں۔جب کہا جاتا کہ دوسروں سے کرالیا کریں تو کہتیں اس طرح مزا نہیں آتا۔تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر چیز کو خدا تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے۔مگر کتنے لوگ ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔بعض لوگ چند پیسے کسی غریب کو دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس پر عمل ہو گیا۔حالانکہ یہ درست نہیں۔جو شخص پیسے تو خرچ کرتا ہے مگر اصلاح وارشاد کے کام میں حصہ نہیں لیتا وہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے اس حکم پر عمل کر لیا ہے یا جو یہ کام بھی کرتا ہے مگر ہاتھ پاؤں اور اپنی طاقت کو خرچ : نہیں کرتا۔بیواؤں اور یتیموں کی خدمت نہیں کرتا۔وہ بھی نہیں کہہ سکتا۔اس نے اس پر عمل کر لیا ہے۔تو اللہ تعالی کی راہ میں ساری قوتوں کو صرف کرنے کا حکم ہے۔جذبات کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں صرف کرنا ضروری