مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 280

280 ہے۔مثلاً غصہ چڑھا تو معاف کر دیا۔اسی کے ماتحت ہاتھ سے کام کرنا اور محنت کرنا بھی ہے اور میں خدام الاحمدیہ کو خصوصیت سے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خدمت خلق کی روح نو جوانوں میں پیدا کریں۔شادیوں ، بیا ہوں اور دیگر تقریبات میں کام کرو۔خواہ وہ کسی مذہب کے لوگوں کی ہوں۔اس کے بعد فرمایا وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا اُنْزِلَ إِلَيْكُ اس میں۔عورتوں کے حقوق ادا کرو ایمان بالقرآن کا حکم ہے مگر اس کو صرف مانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ہر حکم کو اپنے اوپر حاکم بنانا ضروری ہے۔اس سلسلہ میں میں نے احباب کو یہ نصیحت کی تھی کہ قرآن کریم نے عورتوں کو حصہ دینے کا جو حکم دیا ہے، اس پر عمل کریں اور چند سال ہوئے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر میں نے احباب سے کہا تھا کہ کھڑے ہو کر اس کا اقرار کریں اور اکثر نے کیا بھی تھا۔مگر میرے پاس شکایتیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض احمدی نہ صرف یہ کہ خود حصہ نہیں دیتے بلکہ دوسروں سے لڑتے ہیں کہ تم بھی کیوں دیتے ہو۔مسلمانوں نے جب عورتوں سے یہ سلوک شروع کیا تو خدا تعالیٰ نے ان کو عورتیں بنا دیا۔انہیں ماتحت کر دیا اور دو سروں کو ان پر حاکم کر دیا۔انہوں نے عورتوں کو ان کے حق سے محروم کیا تو خدا تعالیٰ نے ان سے حکومت چھین کر انگریزوں کو دے دی۔انہوں نے عورتوں کو نیچے گرایا اور خدا تعالیٰ نے ان کو گرا دیا۔لیکن اگر تم آج عورتوں کو ان کے حقوق دینے لگ جاؤ اور مظلوموں کے حق قائم کرو تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور تمہیں اٹھا کر اوپر لے جائیں گے۔پس عورتوں کے حقوق ان کو ادا کرو اور ان کے حصے ان کو دو۔مگر اس طرح نہیں جس طرح کا ایک واقعہ میں نے پہلے بھی کئی بار سنایا ہے۔ایک احمدی تھے۔ان کی دو بیویاں تھیں۔قادیان سے ایک دوست ان کے پاس گئے تو ان کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں۔انہوں نے نصیحت کی کہ یہ ٹھیک نہیں۔اس نے کہا کہ میں نے تو اپنا یہ اصول بنا رکھا ہے کہ جب ایک غلطی کرے تو اسے تو اس کی غلطی کی وجہ سے مارتا ہوں اور دوسری کو ساتھ اس لئے مارتا ہوں کہ وہ اس پر ہنسے نہیں۔جو دوست قادیان سے گئے تھے۔انہوں نے بہت سمجھایا کہ یہ اسلام کی تعلیم کے خلاف بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسے سخت ناپسند فرماتے ہیں۔اس نے سن کر کہا کہ اچھا پھر تو بہت بڑی غلطی ہوئی۔اب کیا کروں۔کیا معافی مانگوں ؟ انہوں نے کہا ہاں معافی مانگ لو۔وہ گھر پہنچے اور بیویوں کو بلا کر کہا کہ مجھ سے تو بڑی غلطی ہوتی رہی ہے جو میں تم کو مار تا رہا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ تو گناہ ہے اور حضرت صاحب اس پر بہت ناراض ہوتے ہیں اس لئے مجھے معافی دے دو۔وہ دل میں خوش ہو ئیں کہ آج ہمارے حقوق قائم ہونے لگے ہیں۔بگڑ کر کہنے لگیں کہ تم مارا ہی کیوں کرتے ہو۔اس نے کہا کہ بس غلطی ہو گئی اب معاف کر دو۔وہ کہنے لگیں کہ نہیں ہم تو معاف نہیں کریں گی۔اس پر اس نے کہا کہ سیدھی طرح معافی دیتی ہو یا لا ہواں چھل۔یعنی کھال ادھیڑوں۔وہ سمجھ گئیں کہ بس اب یہ بگڑ گئے ہیں۔جھٹ کہنے لگیں کہ نہیں ہم تو یونہی کہہ رہی تھیں۔آپ کی مار تو ہمارے لئے پھولوں کی طرح ہے۔ہندوستان میں عورتوں کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔کتے کو اس طرح نہیں مارا جاتا، بیلوں اور