مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 278

278 ایک معنے امن دینا بھی ہے یعنی جب قوم کا کوئی فرد باہر جاتا ہے تو اس کے دل میں یہ اطمینان ہو نا ضروی ہے کہ اس کے بھائی اس کے بیوی بچوں کو امن دیں گے۔کوئی قوم جہاد نہیں کر سکتی جب تک اسے یہ یقین نہ ہو کہ اس کے پیچھے رہنے والے بھائی دیانتدار ہیں۔پس ان تینوں مجلسوں کا ایک یہ بھی کام ہے کہ جماعت کے اندر ایک ایسی امن کی روح پیدا کریں۔ان تینوں مجالس کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایمان بالغیب ایک میخ کی طرح ہر احمدی کے دل میں اس طرح گھو جائے کہ اس کا ہر خیال ہر قول اور ہر عمل اس کے تابع ہو اور یہ ایمان قرآن کریم کے علم کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔جو لوگ فلسفیوں کی جھوٹی اور پر فریب باتوں سے متاثر ہوں اور قرآن کریم کا علم حاصل کرنے سے غافل رہیں ، وہ ہر گز کوئی کام نہیں کر سکتے۔پس مجالس انصار اللہ خدام الاحمدیہ اور لجنہ کا یہ فرض ہے اور ان کی یہ پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ یہ باتیں قوم کے اندر پیدا کریں اور ہر ممکن ذریعہ سے اس کے لئے کوشش کرتے ر ہیں۔لیکچروں کے ذریعہ اسباق کے ذریعہ اور بار بار امتحان لے کر ان باتوں کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو بار بار پڑھایا جائے۔یہاں تک کہ ہر مرد عورت اور ہر چھوٹے بڑے کے دل میں ایمان بالغیب پیدا ہو جائے۔دوسری ضروری چیز نماز پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے۔قرآن کریم نے دوسری چیز نماز کا قیام يؤدون الصلوة کہیں نہیں فرمایا۔یا یصلون الصلوة نہیں کیا بلکہ جب بھی نماز کا حکم دیا ہے۔يقيمون الصلوہ فرمایا اور اقامت کے معنے باجماعت نماز ادا کرنے کے ہیں اور پھر اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔گویا صرف نماز کا ادا کرنا کافی نہیں بلکہ نماز باجماعت ادا کرنا ضروری ہے اور اس طرح ادا کرنا ضروری ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص نہ رہے۔اسلام میں نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ قائم کرنے کا حکم ہے اس لئے ہر احمدی کا فرض ہے کہ نماز پڑھنے پر خوش نہ ہو بلکہ نماز قائم کرنے پر خوش ہو۔پھر خود ہی نماز قائم کر لینا کافی نہیں بلکہ دوسروں کو اس پر قائم کرنا چاہئے۔اپنے بیوی بچوں کو بھی اقامت نماز کا عادی بنانا چاہئے۔بعض لوگ خود تو نماز کے پابند ہوتے ہیں مگر بیوی بچوں کے متعلق کوئی پرواہ نہیں کرتے۔حالانکہ اگر دل میں اخلاص ہو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ بچے کا یا بیوی کا یا بہن بھائی کا نماز چھوڑنا انسان گوارا کر سکے۔ہماری جماعت میں ایک مخلص دوست تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں۔ان کے لڑکے نے مجھے لکھا کہ میرے والد میرے نام الفضل جاری نہیں کراتے۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ کیوں اس کے نام الفضل جاری نہیں کراتے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ مذہب کے معاملہ میں اسے آزادی حاصل ہو اور وہ آزادانہ طور پر اس پر غور کر سکے۔میں نے انہیں لکھا کہ الفضل پڑھنے سے تو آپ سمجھتے ہیں اس پر اثر پڑے گا اور مذہبی آزادی نہ رہے گی۔لیکن کیا اس کا بھی آپ نے کوئی انتظام کر لیا ہے کہ اس کے پروفیسر اس پر اثر نہ ڈالیں۔کتابیں جو وہ پڑھتا ہے وہ اثر نہ ڈالیں۔دوست اثر نہ ڈالیں اور جب یہ سارے کے سارے اثر ڈال رہے ہیں تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے زہر تو کھانے دیا جائے اور تریاق سے بچایا جائے۔تو میں بتا رہا تھا کہ اقامت نماز