مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 14
14 ” میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہوں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور مامور دنیا میں قائم کرتے ہیں۔اس وقت تک اس سلسلہ کا ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا۔بے شک ترقی ہوتی ہے۔مگر اس طرح کہ کبھی ترقی ہوئی اور کبھی رک گئی۔کبھی بڑھ گئے اور کبھی رخنہ واقع ہو گیا۔اس طرح وہ الہی سلسلہ پہاڑوں کی طرح اونچا نیچا ہو تا چلا جاتا ہے۔لیکن بہر حال رخنہ بری چیز ہے۔کوئی اچھی چیز نہیں۔اور ہمیں اس کو جلد سے جلد دور کرنا چاہئے۔مگر یہ رخنے آج ہم میں ہی پیدا نہیں ہوئے۔پہلی قوموں اور پہلے زمانوں میں بھی موجود تھے۔جن کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض لوگ ہماری جماعت پر یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اگر یہ الہی سلسلہ ہے تو اس میں فلاں نقص کیوں ہے۔حالانکہ یہ باتیں پہلے زمانوں میں بھی تصویر مگر اس کے یہ معنی اسلام اور احمدیت کی تعلیمات کی حقیقی روح نو جوانوں میں جلوہ گر ہو نہیں کہ ان چیزوں کو قائم رکھا جائے۔بلکہ ہمیں ان امور کی اصلاح کا فکر کرنا چاہئے۔اور وہ اصلاح اسی رنگ میں ہو سکتی ہے کہ