مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 15

15 نوجوانوں کو اس امر کی تلقین کی جائے کہ وہ اپنے اندر ایسی روح پیدا کریں کہ اسلام اور احمدیت کا حقیقی مغزا نہیں میسر آجائے۔اگر ان کے اندر اپنے طور پر یہ بات پیدا ہو جائے تو پھر کسی حکم کی ضرورت نہیں رہتی۔حکم دینا کوئی ایسا اچھا نہیں ہو تا۔دنیا میں بہترین مصلح وہی سمجھا جاتا ہے جو تربیت کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پیدا کر دیتا ہے کہ اس کا حکم مانالوگوں کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دل پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم باقی الہامی کتب پر فضیلت رکھتا ہے۔اور الہامی کتابیں تو یہ کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو۔مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ اس لئے کرو۔اس لئے کرو۔گویا وہ خالی حکم نہیں دیتا۔بلکہ اس حکم پر عمل کرنے کی انسانی قلوب میں رغبت بھی پیدا کر دیتا ہے۔تو سمجھانا اور سمجھا کر قوم کے افراد کو ترقی کے میدان میں اپنے ساتھ لئے جانا یہ کامیابی کا ایک اہم گر ہے۔اور قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے۔چنانچہ سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے جو نصیحتیں بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ واقصد فی منيك و اغضُضُ مِنْ صَوتک ( آیت:۲۰) کہ تمہارے ساتھ چونکہ کمزور لوگ بھی ہوں گے۔اس لئے ایسی طرز پر چلنا کہ کمزور رہ نہ جائیں۔بیشک تم آگے بڑھنے کی بھی کوشش کرو۔مگر اتنے تیز بھی نہ ہو جاؤ کہ کمزور طبائع بالکل رہ جائیں۔دوسرے جب بھی تم کوئی حکم دو محبت پیار اور سمجھا کر دو۔اس حکم دو تو محبت اور پیار اور سمجھا کر دو طرح نہ کہو کہ ہم یوں کہتے ہیں۔بلکہ ایسے رنگ میں بات پیش کرو کہ لوگ اسے سمجھ سکیں۔اور وہ کہیں کہ اس کو تسلیم کرنے میں تو ہمارا اپنا فائدہ ہے۔وَاعْضُضُ مِنْ صوتک کے یہی معنی ہیں۔گویا میانہ روی اور پر حکمت میانہ روی اور حکمت قومی ترقی کی روح پیدا کرنے میں محمد ہیں کلام یہ دو چیزیں مل کر قوم میں ترقی کی روح پیدا کیا کرتی ہیں۔اور پر حکمت کلام کا بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں میں ایسی روح پیدا کر دی جائے۔کہ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو سننے والے کہیں۔کہ یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔یہی وقت ہو تا ہے کہ جب کسی قوم کا قدم ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے مگر جب امام کچھ کہے اور ماموم کچھ سمجھے۔امیر کوئی حکم دے اور مامور اس سے کوئی مطلب لے اور سمجھنے اور سمجھانے کی کشمکش جاری رہے۔وہ حکم دے اور یہ کہے کہ مجھے پہلے اس کی غرض اور اس کا فائدہ سمجھا دیجئے اور جب سمجھایا جائے تو کے میری سمجھ میں نہیں آیا۔تو ایسی صورت میں کبھی بھی قومی ترقی نہیں ہوتی۔لیکن جب امیر اور مامور کے آپس میں ایسے تعلقات ہوں۔یا تربیت دماغی ایسے رنگ میں ہو چکی ہو کہ امیر جب کوئی حکم دے تو سب لوگ یہ سمجھیں کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے اور یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔تو اس وقت یقینا وہ ترقی کر جاتی ہے۔ہمارے ملک میں مثل ہے کہ "سو سیانے نے اکو مت۔" یعنی اگر سو عظمند تو ہو وہ سب ایک ہی بات پر متفق ہوں گے۔یہ نہیں ہو تاکہ کوئی کچھ کہے