مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 213

213 اکثریت بگڑ جائے۔پھلنے والے پھلیں گے۔گرنے والے گریں گے اور جدا ہونے والے جدا ہوں گے مگر اکثریت پھر بھی ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔پس پیغامی یا ان کے گماشتے مصری میرے ان الفاظ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اکثریت ہمارے ساتھ ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔اگر بعض منافق یا کمزور طبع لوگ اپنی ایمانی کمزوری کا ثبوت دیتے ہوئے ہم سے الگ ہو جائیں گے تو وہ پھر بھی اکثریت قرار نہیں پائیں گے۔بلکہ اکثریت ہمارے ساتھ رہے گی اور وہ ہمارے مقابلہ میں تھوڑے ہی رہیں گے۔کیونکہ نبیوں کی جماعتوں کے اندر شروع زمانہ میں منافق اور فتنہ و فساد پیدا کرنے والے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں اور مومن زیادہ ہوتے ہیں۔پس جب میں اپنے متعلق تھوڑے کا لفظ بولتا ہوں۔تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ ہم احمدی کہلانے والوں کے مقابلہ میں تھوڑے ہیں بلکہ غیر اقوام مراد ہوتی ہیں۔اور میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کے مقابلہ میں بالکل قلیل ہیں۔لیکن احمدی کہلانے والے غیر مبایعین کے مقابلہ میں ہم زیادہ ہیں۔اور زیادہ ہی رہیں گے۔انشاء اللہ پس میں اس خطبہ کے ذریعہ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو پوزیشن ہم نے دیانتداری کے ساتھ تعلیم کی ہوئی ہے ، ہمیں اس کے مطابق اپنے اعمال میں بھی تغیر پیدا کرنا چاہئے۔اسی طرح صحابہ کی جو پوزیشن ہمارے نزدیک مسلم ہے وہی پوزیشن ہمیں اختیار کرنی چاہئے۔صحابہ کی پوزیشن یہ تھی کہ انہیں حکم دیا جاتا اور وہ فورا اطاعت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور یہی پوزیشن ہماری ہونی چاہئے۔جو شخص یہ پوزیشن اختیار نہیں کرتا ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو امتی نبی مانتا ہے۔کیونکہ امتی نبی ماننے کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ جو کچھ صحابہ نے کیا وہی ہم کریں اور اگر کوئی شخص صحابہ کے سے کام نہیں کرتا تو اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آزاد نبی مانتا ہے۔اس صورت میں اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ہم جسے مسیح موعود تسلیم کرتے ہیں وہ رسول کریم میل ل ل ل لیول کا امتی ہے۔ہم کسی ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے تیار نہیں جو اپنے آپ کو مستقل نبی قرار دے اور رسول کریم میں دل کی دیوی کی غلامی سے آزاد ہو کر نبوت کا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے۔کیونکہ آپ کو خدا نے بھی نبی قرار دیا اور اس کے رسول نے بھی نبی قرار دیا اور ہمارے نزدیک ایسا شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کو کلیہ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ خدا کو بھی جھوٹا کہتا ہے اور خدا کے رسول کو بھی جھوٹا کہتا ہے اس لئے ان کا راستہ اور ہے اور ہمارا راستہ اور۔۔پس میں قادیان کی جماعت کو آئندہ تین گروہوں میں تقسیم کرتا جماعت کی تین گروہوں میں تقسیم ہوں۔اول اطفال احمد یہ آٹھ سے پندرہ سال تک۔دوم خدام الاحمدیہ پندرہ سے چالیس سال تک۔- -