مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 214

214 سوم : انصار اللہ چالیس سے اوپر تک۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی عمر کے مطابق ان میں سے کسی نہ کسی مجلس کا ممبر بنے۔خدام احمد یہ کا نظام ایک عرصہ سے قائم ہے۔مجالس اطفال احمد یہ بھی قائم ہیں۔البتہ انصار اللہ کی مجلس اب قائم کی گئی ہے اور اس کے عارضی انتظام کے طور پر مولوی شیر علی صاحب کو پریذیڈنٹ اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب اور چوہدری فتح محمد صاحب کو سیکر ٹری بنایا گیا ہے۔یہ اگر کام میں سهولت کے لئے مزید سیکرٹری یا اپنے نائب مقرر کرنا چاہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے۔ان کا فرض ہے کہ تین دن کے اندر اندر مناسب انتظام کر کے ہر محلہ کی بیت الذکر میں ایسے لوگ مقرر کر دیں جو شامل ہونے والوں کے نام نوٹ کرتے جائیں۔اور پندرہ دن کے اندراندر اس کام کو تکمیل تک پہنچایا جائے۔اس کے لئے قطعاً اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ محلوں میں پھر کر لوگوں کو شامل ہونے کی تحریک کریں بلکہ وہ بیت الذکر میں بیٹھ رہیں جس نے اپنا نام لکھانا ہو وہاں آجائے اور جس کی مرضی ہو ممبر بنے اور جس کی مرضی ہو نہ بنے۔جو ہمارا ہے وہ آپ ہی ممبر بن جائے گا اور جو ہمارا نہیں اسے ہمارا اپنے اندر شامل رکھنا بے فائدہ ہے۔پندرہ دن کے بعد مردم شماری کر کے یہ تحقیق کی جائے گی کہ کون کون شخص باہر رہا ہے۔اگر تو کوئی شخص دیدہ دانستہ باہر رہا ہو گا تو اسے کہا جائے گا کہ چونکہ تم باہر رہے ہو اس لئے اب تم باہر ہی رہو۔مگر جو کسی معذوری کی وجہ سے شامل نہ ہو سکا ہو گا اسے ہم کہیں گے کہ گھر کے اندر تمہارے تمام بھائی بیٹھے ہیں آؤ اور تم بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔اس طرح پندرہ دن کے اندر اندر قادیان کی تمام جماعت کو منظم کیا جائے گا اور ان سے وہی کام لیا جائے گا جو رسول کریم میم کے صحابہ رضی اللہ عنم سے لیا گیا۔یعنی کچھ تو اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو تبلیغ کریں۔کچھ اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو قرآن اور حدیث پڑھائیں۔کچھ اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں۔کچھ اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ تعلیم و تربیت کا کام کریں اور کچھ یزکیھم کے دوسرے معنوں کے مطابق اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کی دنیوی ترقی کی تدابیر عمل میں لائیں۔یہ پانچ کام ہیں جو لازماً ہماری جماعت کے ہر فرد کو کرنے پڑیں گے اسی طرح جس طرح جماعت فیصلہ کرے اور جس طرح نظام ان سے کام کا مطالبہ کرے۔جو شخص کسی واقعی عذر کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکتا۔مثلا وہ مفلوج ہے یا اندھا ہے یا ایسا بیمار ہے کہ چل پھر نہیں سکتا۔ایسے شخص سے بھی اگر عقل سے کام لیا جائے تو فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔الا ماشاء اللہ۔مثلاً اسے کہہ دیا جائے کہ اگر تم کچھ اور نہیں کر سکتے تو کم سے کم دو نفل روزانہ پڑھ کر جماعت کی ترقی کے لئے دعا کر دیا کرو۔پس ایسے لوگوں سے بھی اگر کچھ اور نہیں تو دعا کا کام لیا جاسکتا ہے۔در حقیقت دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو کوئی نہ کوئی کام نہ کر سکے۔قرآن کریم سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ دنیا میں وہی شخص زندہ رکھا جاتا ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں کام کر کے دوسروں کے لئے اپنے وجود کو فائدہ بخش ثابت کر سکتا ہے اور ادنی سے