مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 212

212 باد اصاحب کو مسلمان کہنے سے ان کی ہتک ہوتی ہے یا ان کو مسلمان نہ کہنے سے ان کی ہتک ہوتی ہے۔احرار کا تو اس اعتراض سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ احمدی باد ا صاحب کی تعریف کیوں کرتے ہیں ،مگر سکھ ناواقفیت کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ احرار ان کی تائید کر رہے ہیں اور احمدی انہیں گالی دے رہے ہیں۔میں نے جب یہ اشتہار شائع کیا تو چونکہ وہ آدمی سمجھدار تھے اس لئے انہوں نے دوسرے ہی دن جلسہ گاہ میں سٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا کہ تم نے مجھے سخت ذلیل کرایا ہے کیونکہ جو باتیں تم نے مجھے بتائی تھیں وہ اور تھیں اور جو باتیں اس اشتہار میں لکھی ہیں وہ بالکل اور ہیں۔میرا انشاء اس مثال سے یہ ہے کہ باوجود اس بات کے کہ سکھ تمام قوموں میں سے کم ہیں۔پھر بھی وہ اپنے آپ کو اتنے طاقتور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک موقعہ پر ہمیں یہ نوٹس دے دیا کہ وہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے اور ایک نے تو یہاں تک کہدیا کہ قادیان کی اینٹیں سمندر میں پھینک دی جائیں گی۔تو قومی لحاظ سے غیر اقوام کے مقابلہ میں ہم پہلے ہی تھوڑے ہیں۔پھر اگر ان منافق طبع لوگوں کو اپنی جماعت سے نکال دینے پر بھی ہم تھوڑے ہی رہتے ہیں اور ان کے ساتھ رہنے سے زیادہ نہیں ہو سکتے تو کوئی وجہ نہیں کہ جب ان کا وجود دوسرے لوگوں کے لئے مضر ثابت ہو رہا ہے انہیں جماعت سے خارج نہ کیا جائے۔لیکن اگر خدا کے رسولوں کی جماعتیں کثرت تعداد کی بناء پر نہیں بلکہ خدا کی نصرت اور اس کی مدد کے ساتھ جیتا کرتی ہیں تو اس صورت میں خواہ یہ لوگ نکل جائیں پھر بھی گو ہم موجودہ وقت سے تھوڑے ہو جائیں گے مگر شکست نہیں کھا سکتے۔ممکن ہے پیغامی یہ کہنا شروع کر دیں کہ پہلے تو اپنے زیادہ ہونے کو صداقت کی دلیل قرار دیتے تھے۔اب کہتے ہیں کہ تھوڑے ہو کر بھی ہم ہی حق پر رہیں گے۔ایک ہی وقت میں یہ تمہاری دو باتیں کس طرح درست ہو سکتی ہیں۔سو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میری دونوں باتیں درست ہیں۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم تھوڑے ہو کر بھی شکست نہ کھائیں گے اس وقت بھی میں ایک حقیقت بیان کرتا ہوں اور جب کہتا ہوں کہ ہم زیادہ ہیں اس لئے حق پر ہیں تو اس وقت بھی میں ایک حقیقت بیان کیا کرتا ہوں۔ہم تھوڑے ہیں غیر اقوام کے مقابلہ میں اور ہم زیادہ ہیں اس لحاظ سے کہ نبی کی جماعت کی اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔پس جب میں نے یہ کہا کہ ہم تھوڑے ہو کر بھی شکست نہیں کھا سکتے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا زیادہ حصہ ہم سے الگ ہو جائے گا اور قلیل حصہ ہمارے ساتھ رہ جائے گا۔کیونکہ جماعت کی اکثریت بہر حال ہمارے ساتھ رہے گی اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی کی جماعت کی اکثریت گمراہ ہو جائے۔اگر کسی وقت اکثریت کو غلطی لگے تو وہ غلطی پر قائم نہیں رہ سکتی بلکہ چند دنوں میں ہی اسے غلطی کی اصلاح کا موقع مل جاتا ہے جیسا کہ صحابہ کے زمانہ میں حضرت علی کی خلافت کے عہد میں ہوا۔پس میں نے اپنے آپ کو تھو ڑا دنیا کی اقوام کے مقابلہ میں قرار دیا ہے۔اور میں نے یہ نہیں کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت قلیل رہ جائے گی۔کیونکہ جب تک جماعت کے دلوں میں نور ایمان باقی ہے یہ ناممکن ہے کہ اس کی