مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 203

203 ارے اس نے فلاں جگہ سے اتنا روپیہ لینا تھا۔اسے اب کون وصول کرے گا۔ایک پوربیا آگے بڑھ کر کہنے لگا۔اری ہم ری ہم۔وہ کہنے لگی اس نے ادھیارے پر گائے دی ہوئی تھی اب اسے کون لائے گا۔وہی پور بیا پھر بولا اور کہنے لگا۔اری ہم ری ہم۔پھر وہ روئی اور کہنے لگی ارے اس کی تین ماہ کی تنخواہ مالک کے ذمہ تھی۔اب وہ کون وصول کرے گا۔وہ پور بیا پھر آگے بڑھا اور کہنے لگا۔اری ہم ری ہم۔پھر وہ عورت رو کر کہنے لگی۔ارے اس نے فلاں کا دو سو روپیہ قرض دینا تھا۔اب وہ قرض کون دے گا۔اس پر وہ پور بیا باقی قوم کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ارے بھئی میں ہی بولتا جاؤں گا یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا۔ان کمزور احمدیوں کی بھی یہی حالت ہے۔جہاں جنت کی نعماء اور مدارج کا سوال آتا ہے وہاں تو کہتے ہیں۔ارے ہم رے ہم۔مگر جب یہ کہا جاتا ہے کہ صحابہ نے بھی قربانیاں کی تھیں تم بھی قربانیاں کرو تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم ہی بولتے جائیں یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا۔یہ حالت بالکل غیر معقول ہے اور اسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مستقل نبی تھے تو بے شک کسی نئی شریعت نئے نظام اور نئے قانون کی ضرورت ہو سکتی ہے۔لیکن اگر وہ محمد صلی اللہ کے تابع اور امتی نبی ہیں تو پھر جو محمل الا اللہ کا حال تھا وہی مسیح موعود کا حال ہے اور جو ان کے صحابہ کا حال تھا وہی ہمارا حال ہے۔مگر یہ کمزور لوگ جب اپنی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو اس وقت تو قرآن کریم کی آیات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پڑھ پڑھ کر اپنے سر ہلاتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لئے یہ انعام بھی ہے اور ہمارے لئے وہ انعام بھی ہے۔مگر جب کام کا سوال آتا ہے تو کوئی یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ اگر میں کام پر گیا تو میری دکان خراب ہو جائے گی۔اور کوئی یہ عذر کرنے لگ جاتا ہے کہ میں اپنے بیوی بچوں کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔حالانکہ صحابہ کی بھی دکانیں تھیں اور صحابہ کے بھی بیوی بچے تھے۔مگر انہوں نے ان باتوں کی کوئی پروا نہیں کی تھی۔پھر اگر ہم بھی صحابہ کے نقش قدم پر ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم میل ل ل ا ل لیلی کے نقش قدم پر تو ان باتوں سے ڈرنے اور گھبرانے کے معنے کیا ہوئے۔ہمارا مذہب یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام رسول کریم میں یا اللہ کے کل اور آپ کے تابع تھے۔ان کی تمام عزت اور ان کا تمام رتبہ اسی میں تھا کہ خدا نے ان کو محمد ملی کا عکس بنا دیا تھا اور وہ اسی کام کے لئے مبعوث کئے گئے تھے جس کام کے لئے محمد م ل ل ل ا للہ آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے مبعوث ہوئے بلکہ قرآنی اصطلاح میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ زندہ ہو کر تشریف لے آئے۔اور یہ ایک بہت بڑی عزت کی بات ہے مگر ساتھ ہی بہت بڑی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اگر محمد ملا اور دوبارہ زندہ ہو کر تشریف لے آئے ہیں تو صحابہ کو بھی تو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آجانا چاہئے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ کام کئے ہیں جو رسول کریم میں نے کئے تھے تو ہمارے کام وہ ہیں جو صحابہ نے کئے۔صحابہ کو ہر سال چار چار پانچ لڑائیاں لڑنی پڑتی تھیں اور بعض لڑائیوں میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ صرف ہو جاتا تھا۔گویا بعض سالوں میں انہیں آٹھ آٹھ نو نو مہینے گھروں سے باہر رہنا پڑا ہے۔پھر