مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 204

204 انہیں کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔دال روٹی اور نمک کے لئے بھی پیسہ تک نہیں ملتا تھا۔بیوی کا کام تھا کہ وہ بعد میں اپنی روزی آپ کمائے اور جانے والوں کا فرض تھا کہ وہ اپنے خرچ پر جائیں۔حتی کہ لڑائی پر جانے والوں کو راشن تک نہیں ملتا تھا۔بلکہ ہر شخص کا فرض ہو تا تھا کہ وہ اپنی روٹی کا آپ انتظام کرے۔اس کے مقابلہ میں میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں ان باتوں کا احساس ہی نہیں۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ سب میں احساس نہیں۔مگر بہر حال جن کے دلوں میں یہ احساس ہے ان کے مقابلہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں میں کوئی احساس نہیں اور اس وجہ سے ہم محض اس بات سے تسلی نہیں پاسکتے کہ جماعت کے ایک حصہ میں ان باتوں کا احساس ہے۔جب تک جماعت کا ایک حصہ ہمیں ایسا بھی نظر آتا ہے جو اس احساس سے بالکل خالی ہے اور دعویٰ یہ کرتا ہے کہ اسے صحابہ کی مماثلت حاصل ہے۔خواہ وہ کتنا بھی تھوڑا ہے جب تک اس کے اس غیر معقول رویہ کی اصلاح نہ کی جائے گی اس وقت تک ہم چین اور آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔میں نے سب نوجوانوں کی اصلاح اور دوسروں کو مفید دینی کاموں میں لگانے کے تعلیم و تربیت کی اہمیت لئے مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی تھی۔مگر ان کی رپورٹ ہے کہ بعض نوجوان ایسے ہیں کہ جب ہم کوئی کام ان کے سپرد کرتے ہیں۔تو پہلا قدم ان کا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کے کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔لیکن اگر زور دیا جائے تو وہ مان تو لیتے ہیں اور کہتے ہیں۔اچھا ہم یہ کام کریں گے مگر پھر دوسرا قدم ان کا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو کرتے نہیں ، یہی کہتے رہتے ہیں کہ ہم کریں گے۔کریں گے۔مگر عملی رنگ میں کوئی کام نہیں کرتے۔اس کے بعد جب ان کے لئے سزا مقرر کی جاتی ہے تو وہ اس سزا کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم استعفے دے دیں گے۔مگر سزا برداشت نہیں کریں گے۔اس قسم کے لوگوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بچے احمدی نہیں۔کیا منافقوں کے سوا مخلص صحابہ میں سے تم کوئی مثال ایسی پیش کر سکتے ہو کہ ان میں سے کسی نے کام کرنے سے اس طرح انکار کر دیا ہو یا کیا رسول کریم میں لیا لیلی نے کبھی اس بات کو برداشت کیا؟ پھر اس جماعت میں سے ایسا نمونہ دکھانے والوں کو ہم صحابہ کا نمونہ کس طرح قرار دے سکتے ہیں۔ہم تو ان کو انہی میں شامل کریں گے جو صحابہ کے زمانہ میں ایسے کام کرتے رہے ہیں یعنی منافق لوگ۔اس میں شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں تلوار کا جہاد تھا اور آج تلوار کا جہاد ہر زمانہ کا جہاد الگ الگ ہوتا ہے نہیں۔لیکن ہر زمانہ کا جہاد الگ الگ ہو تا ہے۔رسول کریم می کے زمانہ میں تلوار کا جہاد تھا اور ممکن ہے اس قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ اگر کسی وقت تلوار کے جہاد کا موقعہ آیا تو وہ سب سے آگے آگے ہوں گے لیکن میں سمجھتا ہوں اگر کبھی تلوار کے جہاد کا موقعہ آیا تو ایسے لوگ سب سے پہلے بھاگنے والے ہونگے۔پس جب وہ کہتے ہیں کہ یہاں کونسا تلوار کا جہاد ہو رہا ہے۔اگر تلوار کا جہاد ہو تو وہ شامل ہو جائیں۔تو یا تو وہ اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور میرے خیال میں تو وہ