مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 202
202 ہیں جن کی نبوت و رسالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت شامل ہے۔تو پھر ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کام کئے وہی کام مسیح موعود کے بھی سپرد ہیں۔اور جو کام صحابہ نے کئے وہی کام جماعت احمدیہ کے ذمہ ہیں۔مگر میں تعجب سے دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو ہماری جماعت کے دوست یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم ملی ایل ایل ایل کے کامل ظل اور امتی نبی ہیں اور وہی شریعت جو رسول کریم میں نے قائم فرمائی اسی کو دوبارہ قائم کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے اور دوسری طرف جماعت کا ایک حصہ صحابہ کے طریق عمل کی جگہ ایک نئی راہ پر چلنا چاہتا ہے۔اور اس راستہ کو اختیار ہی نہیں کرتا جو رسول کریم ملی و الم کے صحابہ نے اختیار کی۔گویا ان کی مثال بالکل شتر مرغ کی سی ہے کہ جہاں درجوں اور انعامات کا سوال آتا ہے وہاں تو کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم مال الالم کوئی الگ وجود نہیں بلکہ آپ کی بعثت در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی بعثت ثانیہ ہے۔اس وجہ سے جو صحابہ کا مقام وہی ہمار امقام۔چنانچہ وہ اس قسم کے استدلال کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں آتا ہے تل من الأولين وثلة من الأخرين (الواقعہ:۴۰-۴۱) کہ جیسے اولین میں سے ایک بہت بڑی جماعت نے خدا کا قرب حاصل کیا اسی طرح آخرین خدا کی بہت بڑی رحمتوں کے مستحق ہوں گے۔و کیا یہ پس جیسے صحابہ کی جماعت تھی ویسی ہی ہماری جیسے صحابہ کی جماعت تھی ویسی ہی ہماری جماعت ہے جماعت ہے۔جیسے وہ رسول کریم میں کی بعثت اوٹی سے مستفیض ہوئے اسی طرح ہم رسول کریم میں والی دیوی کی بعثت ثانیہ سے مستفیض ہوئے۔پس ہم میں اور صحابہ میں کوئی فرق نہیں مگر جب قربانی کا سوال آتا ہے تو ایسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمانہ اور تھا اور یہ زمانہ اور ہے۔گویا وہ بالکل شتر مرغ کی طرح ہیں جو اپنی دونوں حالتوں سے فائدہ تو اٹھالیتا ہے مگر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہو تا۔کہتے ہیں کسی شتر مرغ سے کسی نے کہا کہ آؤ تم پر اسباب لادیں کیونکہ تم شتر ہو (شتر کے معنی اونٹ ہیں اور مرغ کے معنی ہیں پرندہ) وہ کہنے لگا کیا پرندوں پر بھی کسی نے اسباب لادا ہے ؟ اس نے کہا اچھا تو پھر اڑ کر دکھاؤ۔کہنے لگا کبھی اونٹ بھی اڑا کرتے ہیں۔پس جس طرح شتر مرغ اڑنے کے وقت اونٹ بن جاتا ہے اور اسباب لادتے وقت پرندہ۔اسی طرح ہماری جماعت کا جو حصہ کمزور ہے کرتا ہے۔یعنی جب قربانی کا وقت آتا ہے تو وہ کہتا ہے ہمارا حال اور ہے اور صحابہ کا حال اور۔مگر جب درجوں اور انعامات اور جنت کی نعماء کا سوال آتا ہے تو کہتا ہے سبحان اللہ حضرت صاحب تو رسول کریم ملی والا مولوی کے کل تھے۔پس جو حال صحابہ کا وہی حال ہمارا۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ کوئی پور بیا مرگیا تھا۔ہو رہے عام طور پر دھوبی ہوتے ہیں۔اس کی عورت نے باقی دھوبیوں کو اطلاع دی اور سب اکٹھے ہو گئے۔رسم و رواج کے مطابق عورت نے ان سب کے سامنے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ان میں طریق یہ ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو عورتیں اور لڑکیاں اکٹھی ہو کر پیٹتی ہیں اور مردا نہیں تسلی دیتے ہیں۔اس ہو رہیے کی عورت نے بھی رونا پیٹنا شروع کر دیا اور روتے روتے اس قسم کی باتیں شروع کیں۔کہ