مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 133

133 کام ہو رہا ہے اور امید ہے کہ سینکڑوں ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے مگر دن بارہ روز کے بعد یہ رپورٹیں آنی شروع ہو ئیں کہ سخت مخالفت ہو رہی ہے اور ہمارے مبلغوں کو لوگ اپنے گاؤں میں ٹھہرنے تک نہیں دیتے۔یہ رپورٹیں سن کر مجھے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ وہ سارا علاقہ مسلمانوں کا ہے اور مجھے امید تھی کہ مسلمان ضرور مدد کریں گے لیکن مجھے بتایا گیا کہ اس علاقہ کے ذیلدار نے جو مسلمان ہے سب کام چھوڑ چھاڑ کر ہماری مخالفت شروع کر رکھی ہے اور بعض نمبرداروں کو ساتھ لے کر وہ ہمارے آدمیوں کے پیچھے پیچھے پھرتا اور ہر گاؤں میں پہنچ کر لوگوں سے کہتا ہے کہ ان کو یہاں ٹکنے نہ دو اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتا ہے کہ اگر انہوں نے ان لوگوں کو مسلمان بنالیا تو پھر ہمارے جو جانور مرجایا کریں گے انہیں کون اٹھا کر لے جایا کرے گا اور ان کی کھالیں کون ا تارا کرے گا۔اگر ان لوگوں میں یہ عادت نہ ہوتی کہ ایک خاص قسم کے کام نہیں کرنے تو ان کو اس مخالفت کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔تو بعض قسم کے کام کرنا امراء اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔زمینداروں میں بھی یہ عادت ہے کہ وہ بعض خاص قسم کے کام خود کرنا بہتک سمجھتے ہیں اور ان کو کمیوں کے کام سمجھتے ہیں۔ان کمیوں کی اصلاح کا سوال جب بھی پیدا ہو گا، زمیندار فورا لڑائی پر آمادہ ہو جائیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح ہمارے کام رک جائیں گے۔جب قادیان میں چوہڑوں کو اسلام میں داخل کرنے کا سوال پیدا ہوا تو میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی کہ بعض احمد یوں نے مجھ سے کہا کہ اگر یہ مسلمان ہو گئے تو ہمارے گھروں کی صفائی کون کرے گا۔یہ دقت ان کو صرف اس وجہ سے نظر آئی کہ ان کو ایک خاص قسم کا کام کرنے کی بالکل عادت نہ تھی اور جسے بالکل ہی کام کرنے کی عادت نہ ہو اسے غصہ آئے گا جب وہ یہ محسوس کرے گا کہ اب اس کی خدمت کرنے والے نہیں رہیں گے۔اگر زمینداروں کو یہ عادت ہوتی کہ اپنے مردہ جانوروں کو خود ہی باہر پھینک دیں تو شکر گڑھ کی تحصیل کے زمیندار ہماری مخالفت نہ کرتے۔تو میرا مطلب یہ ہے کہ ایک تو کام کرنے کی عادت پیدا کی جائے اور دوسرے کسی کام کو ذلیل نہ سمجھا جائے۔ہاں نو کر رکھ لینا اور بات ہے اگر کسی کا کام زیادہ ہو جسے وہ خود نہ کر سکتا ہو تو کسی کو مدد گار کے طور پر رکھ سکتا ہے۔بعض بڑے زمیندار بھی اپنے ساتھ ہالی رکھ لیتے ہیں لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے ہل نہیں چلاتے وہ خود بھی چلاتے ہیں اس لئے ان کو یہ فکر نہیں ہو تاکہ اگر ہالی نہ رہے تو وہ کیا کریں گے کیونکہ وہ خود بھی ہل چلانے میں عار نہیں سمجھتے لیکن جن کاموں کو لوگ اپنے لئے عار سمجھتے ہیں ان کے کرنے والوں کی اصلاح کا اگر سوال پیدا ہو تو وہ ضرور ناراض ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد یہ ہتک والا کام ہمیں خود کرنا پڑے گا اور اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے تو اس میں دونوں باتیں شامل ہیں یعنی یہ بھی اس میں شامل ہے کہ کسی