مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 132
132 روپیہ سمیٹ لیتے ہیں اور روپیہ چند ہاتھوں میں جمع ہو جاتا ہے۔پہلے تو لوگ ان کو اس لئے روپیہ دیتے ہیں کہ سود ملے گا لیکن آخر کار ان کے دست نگر ہو جاتے ہیں اور اس طرح جو روپیہ جمع کرتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیں کہ روپیہ جمع کرتے چلے جائیں تا دو سروں سے غلامی کروا سکیں اور خدمت کر سکیں۔اس چیز سے قرآن کریم نے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں قیامت کے دن اسے جلا کر ان کے بدن کو داغ دیا جائے گا۔اس سونا چاندی سے مراد استعمال والا سونا چاندی نہیں جو جائز طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں زکوۃ کا حکم ہے اور حدیثوں میں یہ تفاصیل بیان کی گئی ہیں کہ اتنے سونے اور اتنی چاندی پر اتنی زکوۃ دینی چاہئے۔اگر سونا چاندی پاس رکھنا ہی منع ہوتا تو اس پر زکوۃ کے کوئی معنے ہی نہ تھے۔کیا شراب پر بھی زکوۃ ہے۔تو یہ درمیانی رستہ ہے جو اسلام نے بتایا ہے اور ایسی دولت سے منع کیا ہے جس کے فائدہ سے وسرے لوگ محروم رہ جائیں۔جو لوگ اس طرح دولت جمع کرتے ہیں وہ آرام طلب ہو جاتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہاتھ سے کام نہیں کرتے۔ان کے مد نظر ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس روپیہ ہو تو لوگوں رو سے کام لیں۔خود چار پائی پر بیٹھے ہیں اور دو سرے کو نکتے بیٹھنے والے دنیا میں غلامی کے جراثیم پھیلاتے ہیں۔حکم دیتے ہیں کہ پاخانہ میں لوٹا رکھ آؤ اور اس قدر سکتے ہو جاتے ہیں کہ پاخانہ سے واپس آتے ہوئے لوٹا ء ہیں چھوڑ آتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ او کمبخت کہاں گیا الو ٹا اٹھالا۔ان کو کوئی کام کرنا نصیب نہیں ہوتا اور چونکہ ان کو دوسروں سے کام لینے کی عادت ہو جاتی ہے اس لئے یہی لوگ ہیں جو دنیا میں غلامی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں بلکہ ان کا وجو د غلامی کا منبع ہو تا ہے او ز دنیا میں ان کے ذریعہ غلامی اس طرح پھیلتی ہے۔یہ لوگ چاہتے ہیں کہ دنیا کی حالت ایسی رہے کہ اس میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا رہے جو ان کی خدمت کرتے رہیں اور وہ اس کے لئے کوشش بھی کرتے رہتے ہیں جس طرح حکومت کو گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے وہ زمینداروں کو مربعے دیتی ہے کہ گھوڑے پالیں اسی طرح جو لوگ اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ ہاتھ سے کام نہ کریں یا بعض کاموں میں اپنی ہتک سمجھیں وہ لازماً کوشش کرتے ہیں کہ دنیا کا کچھ حصہ غریب رہے اور ان کی خدمت کرتا رہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر دنیا کی حالت اچھی ہو جائے تو وہ کام کس سے لیں گے۔یہ باریک باتیں شاید زمینداروں کی سمجھ میں نہ آسکیں۔اس لئے میں اسے ایک موٹی مثال سے واضح کر دیتا ہوں جس سے ہر شخص اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ایک دفعہ مجھے اطلاع ملی کہ شکر گڑھ کی تحصیل میں بعض ادنی اقوام ہیں جن کو آریہ ہند و بنارہے ہیں اور مجھے اطلاع ملی کہ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان ہم کو اپنے ساتھ ملالیں تو ہم مسلمان ہو جائیں گے۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندو ہو کر بھی ہماری حالت اچھی نہ ہوگی۔کئی پیغام مجھے آئے اور میں نے ایک دو مبلغ وہاں بھیج دیئے کہ جاکر ان میں تبلیغ کریں اور پھر ہم ان کے لئے انتظام کرنے کی کوشش کریں گے۔پہلے پہل تو مجھے رپورٹ ملتی رہی کہ وہاں بڑا اچھا