مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 134

134 کام کو اپنے لئے عار نہ سمجھا جائے۔یوں تو سارے ہی لوگ ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔میں جو لکھتا ہاتھ سے کام کرنے کا مطلب و مفہوم ہوں یہ بھی ہاتھ سے ہی کام ہے۔کیا ہاتھ سے نہیں تو زبان سے - لکھا جاتا۔پس ہاتھ سے کام کرنے کو جب میں کہتا ہوں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ عام کام جن کو دنیا میں عام طور پر برا سمجھا جاتا ہے ان کو بھی کرنے کی عادت ڈالی جائے۔مثلاً مٹی ڈھونا یا ٹوکری اٹھانا ہے کسی چلانا ہے۔اوسط طبقہ اور امیر طبقہ کے لوگ یہ کام اگر کبھی کبھی کریں تو یہ ہاتھ سے کام کرنا ہو گا ورنہ یوں تو سب ہی ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔یہ کام ہمارے جیسے لوگوں کے لئے ہیں کیونکہ ہمیں ان کی عادت نہیں اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو ہو سکتا ہے کہ ہماری عادتیں ایسی خراب ہو جائیں یا اگر ہماری نہ ہوں ہماری اولادوں کی عادتیں ایسی خراب ہو جائیں کہ وہ ان کو برا سمجھنے لگیں اور پھر کوشش کریں کہ دنیا میں ایسے لوگ باقی رہیں جو ایسے کام کیا کریں اور اسی کا نام غلامی ہے۔پس جائز کام کرنے کی عادت ہر شخص کو ہونی چاہئے تاکسی کام کے متعلق یہ خیال نہ ہو کہ یہ برا ہے۔ہمارے ملک کی ذہنیت ایسی بری ہے کہ عام طور پر لوگ لوہار ، ترکھان وغیرہ کو کمین سمجھتے ہیں اور جس طرح لوہار ، ترکھان اور چوہڑوں کو ذلیل سمجھتے ہیں ، اسی طرح دوسرے لوگ ان کو ذلیل سمجھتے ہیں۔اگر کسی شخص کا اب کا پولیس یا فوج میں سپاہی ہو جائے اور سترہ روپیہ ماہوار تنخواہ پانے لگے تو اس پر بہت خوشی کی جاتی ہے۔لیکن اگر وہ پچاس ساٹھ روپیہ ماہوار کمانے والا ترکھان یا لوہار بن جائے تو تمام قوم روئے گی کہ اس نے ہماری ناک کاٹ ڈالی کیونکہ اسے کمیوں کا کام سمجھا جاتا ہے۔تو میرا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے کاموں کی جماعت میں عادت ڈالی جائے۔ایک طرف تو کام کرنے کی عادت ہو اور دوسری طرف ایسے کاموں کو عیب نہ سمجھنے کی۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جماعت کا کوئی طبقہ ایسا نہیں رہے گا کہ جو کسی حالت میں بھی یہ کوشش کرے کہ دنیا میں ضرور کوئی نہ کوئی حصہ غلام رہے۔اور اگر کبھی اس کی اصلاح کا سوال پیدا ہو تو اس میں روک بنے جیسے جب یہاں چوہڑوں کو داخل اسلام کرنے کا سوال پیدا ہوا تو بعض لوگ گھبرانے لگے تھے۔جماعت کے کچھ لوگ بڑھئی بنیں کچھ لوہار بنیں کچھ ملازمتیں کریں۔غرضیکہ کوئی خاص کام کسی سے منسوب نہ ہو تاوہ ذلیل نہ سمجھا جائے۔اس تحریک سے دو ضروری فوائد حاصل ہوں گے۔ایک تو نکما پن وقار عمل کی تحریک کے دو اہم فوائد دور ہو گا اور دوسرے غلامی کو قائم رکھنے والی روح کبھی پیدا نہ ہو گی۔یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ فلاں کام برا ہے اور فلاں اچھا ہے۔برا کام کوئی نہ کرے اور اچھا چھوٹے بڑے سب کریں۔برا کام مثلاً چوری ہے یہ کوئی نہ کرے اور جو اچھے ہیں ان میں سے کسی کو عار نہ سمجھا جائے تا اس کے کرنے والے ذلیل نہ سمجھے جائیں اور جب دنیا میں یہ مادہ پیدا ہو جائے کہ کام کرنا ہے اور نکما نہیں رہنا اور کسی کام کو ذلیل نہیں سمجھنا تو اس طرح کوئی طبقہ ایسا نہیں رہے گا جو دنیا میں غلامی چاہتا ہو۔اسی