مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 81
81 تھوڑی بہت جس قدر بھی مدد کر سکتے ہوں ضرور کریں تاکہ خدام الاحمدیہ عمدگی اور سہولت کے ساتھ اپنا کام کر سکیں۔کئی نادان ہیں جو اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ انگریزوں کے فلاں کام تو خوب چلتے ہیں مگر ہمارے کام اس طرح نہیں چلتے۔اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کے کام کے تسلسل کے پیچھے با قاعدہ دفتر ہو تے ہیں۔باقاعدہ کام کرنے والے ہوتے ہیں۔باقاعدہ خط و کتابت ، سفر اور اجتماعات وغیرہ کے لئے روپیہ ہوتا ہے اور جب سب چیزیں انہیں میسر ہوں تو ان کے کام کیوں نہ چلیں۔مگر ہمارے ہاں نہ سرمایہ ہوتا ہے نہ پورے وقت کے ایسے کار کن ہوتے ہیں جو تجربہ کار ہوں اور نہ عام ضروریات کے لئے کوئی روپیہ ہوتا ہے اور پھر اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ لوگ متواتر کام نہیں کرتے۔جب نیشنل لیگ قائم ہوئی تو اس وقت بھی میں نے انہیں یہ نصیحت کی تھی کہ اب تو تم جوش میں یہ خیال کر لو گے کہ ہم سارا کام خود ہی کر لیں گے۔مگر کاموں کو جب بڑھایا جائے تو ضروری ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے مستقل عملہ ہو جو رات دن کام کرتا رہے تاکہ تسلسل قائم رہے۔مگر انہوں نے میری بات کو اچھی طرح نہ سمجھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے کام میں خرابی پیدا ہو گئی۔قادیان میں اگر نیشنل لیگ کو ر کا کام کچھ لمبا چلا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہاں ایک مستقل آدمی مقرر ہے جس کا فرض یہی ہے کہ وہ نیشنل لیگ کو ر کا کام کرے اور چونکہ مستقل طور پر یہ کام اس کے سپرد ہے اس لئے لازماً اسے اپنی توجہ اس کام کی طرف رکھنی پڑتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں نیشنل لیگ کو ر زیادہ کامیاب رہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر جگہ مستقل آدمی نہیں رکھے جاسکتے۔لیکن اگر بعض سرکل اور دائرے مقرر کر دیے جاتے اور ان میں نیشنل لیگ کے آدمی دورہ کرتے رہتے تو یقینا ان کی کوششوں کے بہت زیادہ شاندار نتائج نکلتے مگر انہوں نے چونکہ اس پہلو کو نظرانداز کر دیا اور اپنی قربانی اور ایثار پر حد سے زیادہ انحصار کر لیا۔اس لئے ان کے کام میں خرابی واقع ہو گئی۔حالانکہ بعض چیزیں اخلاص سے نہیں بلکہ نظام نظام کی اہمیت سے تعلق رکھتی ہیں اور جب تک نظام کی پابندی نہ ہو اس وقت تک کامیابی نہیں ہوتی۔تو مذہبی تعلیموں کی اشاعت کے لئے خصوصا عیسوی نقش پر آنے والی اور جمالی رنگ اپنے اندر رکھنے والی تعلیموں کے لئے ایک لمبے عرصہ تک مسلسل اور متواتر کام کر نیکی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ تسلسل تبھی قائم رہ سکتا ہے جب آئندہ اولادوں کی اصلاح کی جائے۔جس شخص کے دن میں اخلاص پیدا ہو ہجائے وہ تو اپنی موت تک اس راستہ کو نہیں چھوڑتا۔اور چاہے اس کی گردن پر تلوار رکھ دی جائے وہ اپنی اولاد کی اصلاح کے خیال سے غافل نہیں رہتا۔ہاں جب مرجائے تو پھر وہ اپنی اولاد کی اصلاح کا ذمہ دار نہیں۔ذمہ داری صرف زندگی تک عائد ہوتی ہے اور نہ جس دن کوئی شخص مرجائے اسی دن وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے اور تو اور حضرت عیسی علیہ اسلام جو خدا تعالیٰ کے ایک نبی ہیں ان سے بھی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تو نے لوگوں ، یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کا شریک ٹھہرایا جائے تو حضرت عیسی علیہ السلام یہی جواب دیں گے کہ حضور جب تک میں زندہ رہالوگوں کا ذمہ وار رہا لیکن جب آپ نے مجھے وفات دے دی تو پھر مجھے کیا پتہ کہ لوگ کیا