مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 80

80 نسلیں ان کو اختیار کرتی چلی جائیں۔جب مسلسل کئی نسلیں ان تعلیموں پر عمل کرتی چلی جاتی ہیں۔تب وہ ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور دنیا کے لئے حیرت انگیز طور پر مفید بن جاتی ہیں۔خصوصاً جو جماعت اور جو نظام جمالی رنگ میں ہو یعنی عیسوی سلسلہ کے اصول کے مطابق وہ ایک لمبے عرصہ کے بعد پختہ ہو تا ہے۔بلکہ بعض دفعہ دو دو تین تین سو سال کے بعد اسے پختگی حاصل ہوتی ہے۔گویا اس کی مثال ان اعلیٰ درجہ کی معجونوں یا بر شعشا کی قسم کی دواؤں کی سی ہوتی ہے جو ایک لمبے عرصہ کے بعد اپنی خوبی ظاہر کرتی ہیں۔ہمارا سلسلہ بھی عیسوی سلسلہ ہے اور سلسلہ احمدیہ کی تاثیرات لمبے عرصہ کے بعد ظاہر ہوں گی اس کی خوبیاں بھی سبھی ظاہر ہو سکتی ہیں جب ایک لمبے عرصہ تک انتظار کیا جائے۔جس طرح بعض دواؤں کو ایک لمبے عرصہ تک دفن رکھ کر انہیں مفید بنے کا موقع دیا جاتا ہے اور اگر یہ موقعہ نہ دیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم عمد ا اس دوائی کو خراب کرتے ہیں۔اسی طرح ضروری ہوتا ہے کہ جمالی تعلیموں کے نیک نتائج کا بھی ایک لمبے عرصہ تک انتظار کیا جائے۔مگر دواؤں میں سے تو کوئی دوائی زمین میں دفن کی جاتی ہے کوئی جو میں دفن کی جاتی ہے کوئی گیہوں میں دفن کی جاتی ہے۔مگر جمالی تعلیم ایک لمبے عرصہ تک اپنے دلوں میں دفن کی جاتی ہے۔جب ایک لمبے عرصہ تک اس تعلیم کو اپنے دلوں میں جگہ دی جائے تو یہ اعلیٰ درجہ کی معجون بن جاتی ہے۔ایسی معجون جو تریاق ہوتی ہے اور جو مردہ کو بھی زندہ کر دیتی ہے۔پس قانون قدرت کا یہ نکتہ ہمیں بھلا نہیں دینا چاہئے۔نادانی کی وجہ سے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب اجزاء وہی ہیں تو وقت کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قانون قدرت میں ایسی کئی مثالیں رکھ دی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض چیزوں کے لئے وقت کی لمبائی بھی ایک جزو ہوتی ہے۔اس لئے میں نے جماعت میں مجلس خدام الاحمدیہ کی مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض و غایت بنیاد رکھی ہے۔میری فرض اس مجلس کے قیام سے یہ ہے کہ جو تعلیم ہمارے دلوں میں دفن ہے اسے ہوا نہ لگ جائے بلکہ وہ اسی طرح نسلا بعد نسل دلوں میں دفن ہوتی چلی جائے۔آج وہ ہمارے دلوں میں دفن ہے تو کل وہ ہماری اولاد کے دلوں میں دفن ہو اور پرسوں ان کی اولاد کے دلوں میں۔یہاں تک کہ یہ تعلیم ہم سے وابستہ ہو جائے۔ہمارے دلوں کے ساتھ چمٹ جائے اور ایسی صورت اختیار کرلے جو دنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو۔اگر ایک یا دو نسلوں تک ہی یہ تعلیم محدود رہی تو کبھی ایسا پختہ رنگ نہ دے گی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر مجالس خدام الاحمدیہ کا جو اجتماع ہوا تھا، اس میں میں نے خدام الاحمدیہ کو خصوصاً اور باقی جماعت کو عموماً اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اس کام میں خدام الاحمدیہ کی مدد کی جائے۔پھر جلسہ سالانہ کے موقعہ پر بھی میں نے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ اس جماعت کی مالی امداد کرنا یہ بھی ایک ثواب کا کام ہے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہوئی ہے ان کا فرض ہے کہ وہ