مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 82

82 الله کر رہے ہیں۔اب دیکھو حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک نبی ہیں مگر موت کے بعد لوگوں میں کسی خرابی کے پیدا ہونے کی ان پر بھی ذمہ داری نہیں لیکن اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا کوئی مثیل کھڑا ہو جاتا جو لوگوں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جاتا اور یا حضرت عیسی علیہ السلام کا کام ان کے حواریوں کی طرف منتقل ہو جاتا تو یقیناً حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی اس قدر خرابی رونما نہ ہوتی جس قدر کہ خرابی رونما ہوئی۔رسول کریم ملی لیل کے بعد اگر اسلام میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمانوں میں سے آپ کو ایسی اولاد میں عطا کی تھیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کے کام کو سنبھال لیا اور وہ سلسلہ چلتا چلا گیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا اور یہی وعدہ ہے جو در حقیقت آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ رانا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون کہ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ہمیشہ اس کی حفاظت کریں گے اور تمہاری اولادوں میں سے ہی ایسے لوگ کھڑے کر دیں گے جو اسلام کے گرتے ہوئے جھنڈے کو سنبھال لیں گے اور اسلام کو ترقی اور عروج کی منزلوں تک لے جائیں گے۔یہی وعدہ ہے جو رسول کریم متی و لیلی کی دوسرے انبیاء پر عظمت اور بڑائی ثابت کرتا ہے۔انبیاء سابقین کے کاموں کے تسلسل کے قیام کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔مگر رسول کریم ملی لیلی لیلی سے نہ صرف خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا کہ قریب کے زمانہ میں تیری جماعت دین کی خدمت کرے گی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر آئندہ بھی کوئی خرابی پیدا ہو گی تو تیری روحانی اولاد میں سے ہم کسی شخص کو کھڑا کر دیں گے اور وہ پھر تیری عظمت کو دنیا میں قائم کر دے گا۔چنانچہ اس زمانہ میں جب رسول کریم ملی یا لیو کو لوگوں نے بالکل بھلا دیا۔جب تعلیم اسلام سے وہ کو سوں دور جا پڑے۔جب رسول کریم ملی ال ای میل کی اولاد کہلانے والے اپنے آبائی مذہب کی تحقیر و تذلیل پر اتر آئے تو مسلمانوں میں سے ہی ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم میل ل ل ا ل ورم کا روحانی بیٹا قرار دے کر کھڑا کر دیا اور اس نے پھر اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ قائم کر دیا۔اب اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کی حفاظت کا یہ سامان نہ ہو تا اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت نہ ہوتی تو آج اسلام کی کونسی چیز باقی رہ گئی تھی۔مگر اس کامل تباہی میں سے زندگی کے آثار کس طرح پیدا ہوئے ؟ اسی طرح پیدا ہوئے کہ اللہ تعالٰی نے امت محمدیہ میں سے ایک شخص کو کھڑا کیا اور اسے وہ تمام قوتیں دیں جو رسول کریم ملی الا اللہ کے ایک روحانی بیٹے میں موجود ہونی چاہئیں۔وہ آیا اور اس نے اسلام کو اس رنگ میں مذاہب عالم پر غالب اور برتر ثابت کیا کہ اب بجائے بڑھاپے کے اس میں جوانی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں اور دنیا ان جوانی کے آثار کو محسوس کر رہی ہے۔کجا تو وہ زمانہ تھا کہ لوگ کہتے تھے اب اسلام مٹا کہ مٹا اور کجا یہ زمانہ ہے کہ اب لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ اسلام حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ مذاہب عالم کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ہٹلر جو جر منی کا ڈکٹیٹر ہے ، اس نے کئی سال ہوئے جب کہ ابھی وہ بر سر اقتدار نہیں آیا تھا ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام ہے " میری جدوجہد۔اس کتاب میں اس نے اپنے اغراض اور اپنی کوششوں کے مقاصد بیان کئے