مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 700
700 چلے گئے۔اگر اتفاقاً کوئی ہندوستانی ان کا اخبار اٹھا کر پڑھنے لگ جائے تو سب لوگ غضب ناک آنکھوں سے اسے دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ اتنا کمینہ اور ذلیل ہے کہ دوسرے کا اخبار پڑھتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو وہ اخبار بعض دفعہ سات سات پشت تک چلتا ہے۔کسی ان پڑھ شخص کو اگر بس یا گاڑی میں سے کوئی اخبار مل جائے تو وہ بڑی احتیاط سے اسے اپنے گھر لے آئے گا اور بچے سے کسے گا کہ یہ اخبار پڑھ کر سناؤ۔وہ پندرہ دن میں اس اخبار کو ختم کرتا ہے پھر اس کے بعد وہ سنبھال کر اس اخبار کو پڑ چھتی“ پر رکھ دیتے ہیں اور بچے سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے باپ کی لائبریری ہے۔میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں باہر شکار کے لئے گیا۔جس گاؤں میں ہم گئے وہاں کا نمبر دار ہم سے ملنے کے لئے آیا اور اس نے ہمیں چائے بھی پلائی۔اس کے پاس سو ایکٹر زمین تھی اور زمین بھی بڑی اچھی تھی لیکن آدمی جاہل تھا۔ایک دن وہ کہنے لگا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سر کا ڈ لائل پور اور سرگودھا میں لوگوں کو مربعے دے رہی ہے لیکن مجھے نہیں دیتی حالانکہ میں نے بڑی بڑی خدمات کی ہوئی ہیں اور میرے پاس سار ٹیفکیٹ بھی موجود ہیں۔میں نے درخواستیں بھی دیں مگر مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔میں حیران ہوں کہ جب سر کار دوسروں کو مربع دے رہی ہے تو مجھے کیوں نہیں دیتی جب کہ میرے پاس سار ٹیفکیٹ بھی موجود ہیں۔میں نے کہا چوہدری صاحب گورنمنٹ کی پالیسی یہ ہے کہ جن کے پاس زمینیں ہیں ان کو وہ مربعے نہیں دیتی۔آپ کے پاس چونکہ یہاں چار مربع زمین ہے اس لئے اس نے آپ کو وہاں زمین نہیں دی۔کہنے لگا فلاں زمیندار کی بھی زمین تھی مگر اسے تو مر بعے مل گئے ہیں۔میں نے کہا آپ کے پاس کیا سار ٹیفکیٹ ہیں۔میں نے کہا آپ ان میں سے کوئی اچھا سا سار ٹیفکیٹ نکال کر لے آئیں تاکہ میں بھی دیکھوں کہ ان میں کیا لکھا ہے۔وہ گیا اور پڑ چھتی پر سے ٹین کا بنا ہوا ایک لمبا سا بھر کا نکال لایا۔اس بھیجے کے اندر ایک سارٹیفکیٹ رکھا ہوا تھا۔میں نے دیکھا تو وہ سول سر جن کا سار ٹیفکیٹ تھا اور اس پر لکھا تھا کہ اس شخص نے طاعون کا ٹیکا لگوایا ہوا ہے۔مگر وہ اسے سنبھالے پھرتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ نہ معلوم اس سے کتنی بڑی دولت مل سکتی ہے۔میں نے اسے کہا کہ اس سے زمین کا مربع تو الگ رہا خالی آملہ کا مربہ بھی نہیں مل سکتا۔کہنے لگا مجھے تو لوگوں نے بتایا تھا کہ یہ بڑا سار ٹیفکیٹ ہے۔میں نے کہا یہ ہے تو بڑا مگر اس کے اندر یہ مضمون ہے۔بھلا سر کار کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اس کے بدلہ میں آپ کو مربعے دے۔تو ہمارے ملک میں علم کی زیادتی کی کوشش نہیں کی جاتی۔محض بے کار چیزوں کو سنبھال کر رکھ لینگے اور خیال کریں گے کہ یہ بڑی جائیداد ہے۔اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص مجھے ملا جو اپنے گاؤں میں اچھار کیں اور متمول شخص تھا۔کہنے لگا کہ میں پہلے احمدیوں کا بڑا مخالف تھا مگر اب میں ان کی بڑی مدد کرتا ہوں۔آپ کے پاس میں اس لئے آیا ہوں کہ میں دیر سے خطاب حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر ڈپٹی کمشنر مانتا نہیں حالانکہ میں سرکار کی بڑی خدمت کر تا رہا ہوں اور دور جڑر افسروں کے سار ٹیفکیٹس سے بھرے ہوئے میرے پاس موجود ہیں۔آپ اگر میری سفارش