مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 701 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 701

701 کریں تو شاید میرا کام بن جائے۔میں نے کہا مجھے اتنی فرصت تو نہیں کہ میں آپ کے سارے سر ٹیفکیٹ دیکھ سکوں۔البتہ آپ مجھے اپنا کوئی تازہ سر ٹیفکیٹ دکھا دیں تاکہ میں بھی آپ کی خدمت کا کچھ اندازہ لگا سکوں۔اس پر وہ ایک رجسٹر اٹھالایا۔میں نے اسے کھولا تو پہلے صفحہ پر ہی ایک پہلے ڈپٹی کمشنر نے لکھا ہوا تھا کہ یہ بہت بُرا آدمی ہے۔ہر وقت میرے پیچھے پڑا رہتا ہے اور میں جہاں پہنچوں یہ وہیں آجاتا ہے اور اس نے میر اناطقہ بند کر رکھا ہے۔میں نے ہنس کر کہا کہ آپ کو پتہ بھی ہے کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔اس میں تو یہ لکھا ہے کہ یہ بڑا بیہودہ آدمی ہے۔میں جہاں جاتا ہوں وہاں آجاتا ہے اور مجھے ہر وقت تنگ کرتا رہتا ہے۔وہ یہ سن کر کہنے لگا۔بڑا بے ایمان ہے۔میں نے تو اس کے ساتھ ایسے ایسے نیک سلوک کئے اور اس نے میرے متعلق رجسٹر میں یہ الفاظ لکھ دیئے۔تو ہمارے اندر علمی ترقی کا شوق نہیں لیکن یورپین لوگوں کو علم بڑھانے کا بے حد احساس پایا جاتا ہے اور وہ اس کے لئے با قاعدہ اخبارات اور رسالوں کا مطالعہ رکھتے ہیں۔ایسی صورت میں ہمارے ملک کے لوگوں کا ان سے مقابلہ ہی کیا ہے۔کجا ایسا شخص جو دو تین آنے کا اخبار روزانہ خریدتا ہے اور اسے ایک دو منٹ کے اندر دیکھ کر پھینک دیتا ہے اور کجا ہمارا آدمی جو ریل یابس میں سے کسی کا گرا پڑا اخبار اٹھا کر لے آتا ہے اور پھر اپنی نسلوں کے لئے اسے سنبھال کر رکھ دیتا ہے۔لازما وہ شخص جو روزانہ صبح اور شام اخبار خریدتا ہے اور تازہ خبریں معلوم کرتا رہتا ہے وہ اپنے علم میں دوسروں سے بہت آگے ہو گا۔اگر ایک اخبار کی قیمت ایک آنہ بھی سمجھی جائے، گو آج کل دو دو چار چار آنے پر بھی پر چہ ملتا ہے تو دو اخباروں پر دو آنے خرچ ہوں گے جس کے معنے یہ ہیں کہ کم از کم چار روپے ماہوار ایک شخص کو خرچ کرنے پڑتے ہیں اور اگر تین تین آنے قیمت ہو تو بارہ روپے ماہوار کا خرچ ہو گا جو وہاں ہر شخص بر داشت کرتا ہے لیکن ہمارے ملک میں اخبارات اور رسائل پڑھنے کا شوق بہت کم ہے۔”الفضل“ ہمار ا مر کزی اخبار ہے لیکن اس کی اشاعت بھی ابھی دو ہزار ہے حالانکہ ہماری جماعت بہت بڑھ چکی ہے۔اگر جماعت کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ فیصدی بھی اخبار کی اشاعت ہوتی تو دس ہزار اخبار چھپنا چاہئے تھا اور صرف مردوں میں اس کی خریداری ہوتی تب بھی پانچ ہزار خریدار ہونے چاہئے تھے۔مگر الفضل کا خطبہ نمبر ۲۴۰۰ چھپتا ہے اور یہ تعداد بھی بڑ ازور مارنے کے بعد ہوئی ہے ورنہ پہلے تو بہت ہی بد تر حالت تھی۔صرف گیارہ بارہ سواخبار چھپتا تھا۔میں نے زور دیا تو چھپیں سو تک اس کی خریداری پہنچ گئی لیکن پارٹیشن کے بعد چونکہ میں نے ذاتی طور پر اس کی اشاعت میں۔دلچسپی نہیں لی اس لئے پھر اس کی خریداری ہیں سو تک آگئی ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اگر جماعت توجہ کرے تو چار پانچ ہزار تک اس کی بحری ہو سکتی ہے اور پھر ایسی صورت میں الفضل کا حجم بھی بڑھایا جا سکتا ہے اور اس کے مضمون میں بھی تنوع پیدا کیا جا سکتا ہے۔پس ”خالد کی یا تو خدام کو ضرورت نہیں اور اگر ضرورت ہے تو اس کی