مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 699
699 چاہئے۔اگر پانچ فیصدی خریدار ہوں تو ساڑھے بارہ سو خریداری ہونی چاہئے۔اگر دس فیصدی خریدار ہوتے تو اس کی اشاعت اڑھائی ہزار تک ہوتی۔مگر ایسا نہیں ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ علمی ذوق ابھی ہماری جماعت میں پیدا نہیں ہوا جو ہو نا چاہئے۔مجھے ذاتی طور پر ایسی کتابوں اور رسالوں کے مطالعہ کا شوق ہے جن میں مختلف امور کے متعلق ملکوں اور قوموں کا باہم مقابلہ کیا جاتا ہے اور پھر بتایا جاتا ہے کہ مختلف ممالک یا قو میں بڑے بڑے شہر اور قصبات کس رنگ میں ترقی کر رہے ہیں۔میں نے دیکھا ہے۔یورپ اور امریکہ میں یہ رواج ہے کہ وہ اخباروں اور رسالوں کی فہرست دیں گے تو ساتھ ہی جس شہر یا قصبہ سے وہ اخبار یار سالہ نکلتا ہے، اس کی آبادی بھی بتائیں گے اور یہ بھی ذکر کریں گے کہ اس اختبار یار سالہ کی اشاعت کتنی ہے۔میں نے دیکھا ہے وہاں ایسے قصبے جن کی تین تین چار چار ہزار کی آبادی ہے ان میں ہزار بارہ سو چھپنے والا اخبار پایا جاتا ہے۔یوں بڑے بڑے اخباروں کے دیکھا جائے تو بعض اخبار ایسے ہیں جو بیس بیس لاکھ کی تعداد میں چھپتے ہیں۔سارے انگلستان کی آبادی چار کروڑ ستر لاکھ ہے۔اس میں بیس لاکھ کی اشاعت کے یہ معنے ہیں کہ قریبا پانچ یا پونے پانچ فیصدی تک ایک اخبار کی بحری ہے حالانکہ وہاں اور بھی بہت سے اخبار ہیں اور ان میں سے کسی کی اٹھارہ لاکھ اشاعت ہوتی ہے، کسی کی ہیں لاکھ اور کسی کی پچیس لاکھ اگر ان سارے اخباروں کو جمع کیا جائے تو کسی صورت میں ان کی بحری ڈیڑھ کروڑ سے کم نہیں ہو گی۔گویا ہر چار آدمی کے پیچھے ایک اخبار بتا ہے۔ان میں ہفتہ وار اخبار بھی ہیں جن میں سے بعض کی اسی اسی نوے لاکھ تک اشاعت ہے۔امریکہ سے ایک رسالہ آتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ کم سے کم ایک کروڑ چھپتا ہے۔چار کروڑ ستر لاکھ کی آبادی میں جس قدر روزانہ اخبار ہفتہ وار اور پھر ماہ وار رسالے نکلتے ہیں ان کی مجموعی تعداد چھ سات کروڑ سے کسی طرح کم نہیں۔گویانی آدمی ڈیڑھ اخبار کی خریداری بنتی ہے۔وہاں یہ طریق ہے کہ ہر آدمی دو اخبار ضرور خریدیگا۔ایک صبح کا اخبار اور ایک شام کا اخبار - حالانکہ شام کے اخبار میں کوئی خاص دلچسپی کا سامان نہیں ہوتا۔بس اکا دُکا خبر میں دیکھتے ہیں اور اخبار پھینک کر چلے جاتے ہیں۔مثلاً اخبار اٹھایا اور یہ دیکھ لیا کہ گھوڑ دوڑ میں فلاں آگے رہا یا کتوں کی دوڑ ہوئی تو اس کا کیا نتیجہ نکلا یا فلاں جگہ کرکٹ کا میچ ہوا اور اس کا یہ نتیجہ ہوا۔ایک منٹ میں وہ سرسری طور پر اخبار دیکھتے ہیں اور اپنے مذاق کی خبر اس میں تلاش کر لیتے ہیں۔پھر وہ اخبار اسی جگہ رکھ دیں گے اور آگے چلے جائیں گے۔لیکن محض اس لئے کہ انہیں دوسروں کے منہ سے خبر نہ سننی پڑے وہ با قاعدہ اخبار خریدیں گے اور کھڑے کھڑے یہ دیکھیں گے کہ گھوڑ دوڑ میں کون اول رہا یا کتوں کی دوڑ ہوئی تو اس کا کیا نتیجہ نکلا یا کھیل ہوئی تو اس کا نتیجہ کیا ہوا۔بس ایک یا دو منٹ وہ اخبار کو دیکھتے ہیں اسکے بعد وہ اس اخبار کو وہیں پھینک دیں گے اور آپ آگے چل پڑیں گے۔آپ لوگ ان کو دیکھ کر حیران ہونگے کہ انہوں نے پڑھا کیا ہے۔ان کا پڑھنا بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ اخبار اٹھا کر پھینک دیا یا و ہیں زمین پر رکھ دیا اور خود