مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 443

443 اور ہر ایک بیماری کا علاج الگ الگ ہوتا ہے۔خالی قانون بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو تاجب تک حالات کو مد نظر رکھا جائے۔پس میں آئندہ دیکھوں گا۔میں یہ نہیں سنوں گا کہ کون سیکرٹری تھا اور کس نے اسے سیکرٹری بنایا۔مجھے تو کام سے غرض ہے کہ خدام نے نمازوں میں کتنی ترقی کی اور سادہ زندگی کے کن کن اصول پر انہوں نے عمل کیا۔تعلیم میں کتنی ترقی کی۔کتنے لڑکوں نے انٹرنس کتنے لڑکوں نے ایف اے اور بی اے کے امتحان دیئے۔کتنے لڑکے انٹرنس کے بعد کالجوں میں داخل ہوئے۔کتنے لڑکوں نے مڈل اور پرائمری کے امتحان دیے۔کتنے لڑکوں نے تبلیغ میں حصہ لیا۔ان کے ذریعہ کتنے آدمی احمدی ہوئے۔کتنے خدام نے زندگی وقف کی۔تھوڑے دن ہوئے میں نے وقف تجارت کی تحریک کی ہے اور قادیان میں بیسیوں لڑکے ایسے ہیں جو بے کار ہیں اور ان کے ماں باپ گندم کے لئے منظوریاں لیتے پھرتے ہیں۔عرضی میں لکھتے ہیں کہ میں سال کا لڑکا ہے مگر بے کار ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جس لڑکے کے والدین کی یہ حالت ہے وہ بے کار کیوں بیٹھا ہے۔محلہ کا پریذیڈنٹ سفارش کرتا ہے کہ یہ امداد کے بہت مستحق ہیں۔میں کہتا ہوں، ایسے لڑکے امداد کے مستحق نہیں بلکہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو بید لگائے جائیں۔اسی طرح بعض لوگوں کے متعلق سفارش کی جاتی ہے کہ یہ فلاں کے گھر میں کام کرتے ہیں وہاں سے انہیں آٹھ روپے ملتے ہیں لیکن آٹھ روپے میں گزارہ نہیں ہوتا اس لئے ان کو گندم دی جائے۔ایسے لوگوں کے متعلق بھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر یہ لوگ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے تو کیوں پھیری کا کام نہیں کر لیتے ، پھیری والے ہر روز دو تین روپے کما لیتے ہیں۔اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آپ کالر کا کیوں بے کار ہے تو کہتے ہیں فلاں قسم کا کام ملتا ہے لیکن اس کی مرضی ہے کہ مجھے اس قسم کا کام ملے تو میں کروں اس لئے بے کار ہے ( جلسہ کے دنوں میں ایک دوست ملے کہ میرے لڑکے کو چپڑاسی کروا دیں۔میں نے کہا کہ گورنمنٹ ورکشاپ میں ملازم کروا دیتا ہوں دو چار سال میں اسی روپے کمانے لگے گا۔آپ چپڑاسی کیوں بنواتے ہیں۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ لڑکے کی مرضی چپڑاسی ہونے کی ہی ہے) ایسے لڑکوں کی عقلوں کو درست کرنا چاہئے اور انہیں بتانا چاہئے کہ بیکاری ایک ایسی چیز ہے جو جماعتی لحاظ سے اور شخصی لحاظ سے دونوں طرح سخت مضر ہے۔میرا خیال ہے کہ صرف قادیان میں سے دو تین سو آدمی ایسے نکل آئیں گے جو ایسے وقت میں جب کہ ہر طرف روزگار مل رہے ہیں، بے کار بیٹھے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔وہ جماعت پر بار بن رہے ہیں۔وہ اپنے رشتہ داروں پر بار بن رہے ہیں۔وہ اپنے گھر والوں پر بار بنے ہوئے ہیں۔اگر وہ اپنے آپ کو وقف کریں تو تبلیغ کی تبلیغ اور کام کا کام۔ہمارے ہاں مثل مشہور ہے " نالے حج نالے بیوپار "یہ تبلیغ کی تبلیغ ہو گی اور بیوپار کا بیوپار ہو گا۔بلکہ ایک اور بات جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ذہانت و جسمانی صحت ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی صحبتیں نہایت کمزور ہیں اور دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہیں۔جب میں نوجوانوں کی صحتیں دیکھتا ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ہم لوگ جو اپنے آپ کو