مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 442

442 ہے۔اس قسم کے مقابلوں سے ایک دوسرے سے بڑھنے کی روح ترقی کرے گی اور اگر کسی مجلس کا کام فرض کرو پچھلے سال بھی دس فیصد ی تھا اور اس سال بھی دس فیصدی ہے تو اس کے متعلق سوچنا چاہئے کہ کیا وجوہ ہیں جو اس مجلس کی ترقی میں روک ہیں۔پس ایسے ذرائع سوچے جاسکتے ہیں جن سے معین نتیجہ نکالا جاسکتا ہے۔سات سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں۔رسول کریم ملی تو دلیل ہی کا حکم ہے سات سال کے بچے کو نماز پڑھنے کے لئے کہنا چاہئے اور اگر دسن سال کی عمر میں نماز نہ پڑھتا ہو تو اسے مار پیٹ کر نماز پڑھانی چاہئے۔گویا پہلے سات سال ترغیب و تحریص کے ہیں اور اگلے سات سال میں سختی بھی کی جاسکتی ہے۔پندرہ سال کی عمر میں رسول کریم می لی لی نے بعض لوگوں کو جہاد میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے۔پس اگر آج ساری ذمہ داریاں تم پر نہیں ہیں تو آج سے آٹھ سال بعد تمہیں تمام ذمہ داریاں اپنے اوپر لینی ہونگی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک تم ایک ایسے مقام پر پہنچ جاؤ گے جس مقام پر پہنچ کر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔پس جس دور میں تم داخل ہو رہے ہو نہایت نازک دور ہے اور جو ذمہ داریاں تم پر پڑنے والی ہیں وہ بہت بڑی ہیں گو پہلے بھی تم ذمہ داریوں سے خالی نہیں لیکن آئندہ ذمہ داریاں ان سے بڑھ کر ہوں گی۔پر میرے نزدیک پچھلے سات سال تم نے ضائع کر دیئے ہیں۔ائندہ سات سال میں اپنی کمی کو پورا کرو اگر آئندہ سات سال بھی آپ لوگوں نے ضائع کر دیئے تو آپ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مورد الزام ہونگے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور سوچ سمجھ سے کام لیتے ہوئے ہر کام کو پہلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ چلانے کی کوشش کرو۔اندھا دھند قانون بنا دینا کوئی فائدہ نہیں دیتا جب تک کسی قانون کے متعلق یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ واقعی مفید ہے اور ہر جگہ جاری کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح اندھا دهند قانون بنانے والوں کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مثال سنایا کرتے تھے کہ ایک ملا تھا اور اس کے ساتھ اس کا کنبہ بھی تھا۔وہ دریا کے کنارے کشتی پر سوار ہونے کے لئے آئے۔ملاح ان کے لئے کشتی لینے گیا۔کشتی چونکہ کنارے کے پاس ہی تھی، ملانے دیکھا کہ ملاح کے ٹخنوں تک پانی آتا ہے۔اس نے اندازہ لگایا کہ اتنے فٹ تک پانی ٹخنوں تک آتا ہے۔دریا کی چوڑائی اتنی ہے۔اس لحاظ سے زیادہ سے زیادہ پانی کمر تک آ جائے گا حالانکہ دریا کے متعلق اس قسم کا اندازہ لگانا حد درجہ کی حماقت ہے کیونکہ دریا میں اگر ایک جگہ ٹخنے تک پانی ہو تو اس کے ساتھ ہی ایک فٹ کے فاصلہ پر بانس کے برابر ہو سکتا ہے مگر اس ملانے اربعہ سے نتیجہ نکالا کہ پانی کمر تک آئے گا۔یہ خیال کرتے ہوئے اس نے کشتی کا خیال چھوڑ دیا اور سب بیوی بچوں کو لے کر دریا عبور کرنے لگا۔ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ پانی بہت گہرا ہو گیا اور سب غوطے کھانے لگے۔خود تو وہ تیرنا جانتا تھا اس لئے اس نے اپنی جان بچالی مگر بیوی بچے سب ڈوب گئے۔دوسرے کنارے پر پہنچ کر پھر اربعہ لگانے لگا کہ شائد پہلے میں نے اربعہ لگانے میں غلطی کی ہے لیکن دوبارہ وہی نتیجہ نکلا تو وہ کہنے لگا کہ "اربعہ نکلا جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں" پس بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں اربعہ نہیں لگایا جا سکتا۔ہر ایک چیز کا اندازہ الگ الگ طریقہ پر کیا جاتا ہے