مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 444

444 کمزور صحت والے خیال کرتے ہیں ان نوجوانوں سے اچھے ہیں۔آج کل کے نوجوانوں کے قد بہت چھوٹے ہیں یا بہت پتلے دبلے یا بہت موٹے جو موٹاپا کہ بیماری کی ایک قسم ہوتی ہے۔چہرے زرد ہیں اور چہروں پر جھریاں پڑی ہوتی ہیں گویا ان پر جوانی آنے سے پہلے ہی بڑھاپے کا زمانہ آجاتا ہے۔کہتے ہیں کوئی بڑھا بازار میں پاؤں پھسلنے کی وجہ سے گر پڑا تو بولا۔ہائے جوانی ایعنی اب جوانی جو کہ تنومندی اور قوت کے دن تھے ، جاتے رہے اور میں محض بڑھاپے کی وجہ سے گر گیا ہوں۔جب اٹھا تو اس نے دیکھا کہ اس کے ارد گرد کوئی آدمی نہیں تو اس پر بولا۔” پھٹے منہ۔جوانی ویلے توں کیڑا بہادری"۔یعنی تیرے منہ پر پھٹکار پڑے تو جوانی کے وقت کونسا بہادر تھا۔ہمارے نوجوانوں کا بھی یہی حال ہے۔ان پر جوانی آنے سے پہلے ہی بڑھاپے کا زمانہ آجاتا ہے۔اگر نوجوانوں کی صحتوں کی یہی حالت رہی تو یہ خطرے سے خالی نہیں۔پس خدام الاحمدیہ کا یہ فرض ہے کہ نوجوانوں کی صحت کی طرف جلد توجہ کریں۔" اور ان کے لئے ایسے کام تجویز کریں جو محنت کشی کے ہوں اور جن سائنس اور مشینری کے کام سیکھو کے کرنے سے ان کی ورزش ہو اور جسم میں طاقت پیدا ہو مثلا ہر جماعت میں جتنے پیشہ ور ہیں ان سے کہا جائے کہ وہ خدام کو سائیکل کھولنا اور جو ڑنا یا موٹر کی مرمت کا کام یا موٹر ڈرائیونگ سکھا دیں۔یہ کام ایسے ہیں کہ ان میں انسان کی صحت بھی ترقی کرتی ہے اور انسان ان کو بطور ہابی (Hobby) کے سیکھ سکتا ہے اور اگر اسے شوق ہو تو اس میں بہت حد تک ترقی بھی کر سکتا ہے۔سکھ قوم کے مالدار ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ قوم لاری ڈرائیونگ اور لوہار کے کام میں سب سے آگے ہے اور پنجاب میں تمام لاریاں اور مستری خانے ان کے قبضہ میں ہیں۔جس جگہ جاؤ تمہیں لاری ڈرائیور سکھ ہی نظر آئے گا حالا نکہ سکھ پنجاب میں کل دس بارہ فیصدی ہیں لیکن سفر کے تمام ذرائع انہوں نے اپنے قبضہ میں لے رکھے ہیں۔کسی سڑک پر کھڑے ہو جاؤ کسی ضلع یا تحصیل میں چلے جاؤ تم دیکھو گے کہ سائیکلوں پر گذرنے والوں میں سے دو تہائی سکھ ہوں گے اور ایک تہائی ہندو یا مسلمان ہوں گے اور اگر تم گاؤں میں چلے جاؤ تو تم دیکھو گے کہ ایک سکھ سائیکل پر سوار ہے اور اپنی بیوی کو پیچھے بٹھائے لئے جا رہا ہے۔موٹروں کی درستی کے جتنے کارخانے ہیں ان میں سے اکثر سکھوں کے ہیں۔بندوق بنانے کارتوس بنانے لاریاں بنانے “ سائیکل بنانے مشینری بنانے کے جتنے کارخانے ہیں ، سب سکھوں کے ہیں کیونکہ جتنی سہولت ان کو ان چیزوں کے بنانے میں ہے دوسرے لوگوں کو نہیں۔اول تو ہمارے مسلمانوں کے پاس موٹریں ہی نہیں اور اگر کسی کے پاس ہے بھی تو وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے اندر کیا ہے۔اگر کسی جگہ موٹر یا لاری خراب ہو جائے تو پھر سورن سنگھ کی منتیں کریں گے کہ اسے درست کر دو۔حقیقت یہ ہے کہ جتنا روپیہ سکھوں کے پاس ہے اتنا قومی طور پر ہندوؤں کے پاس بھی نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ قوم محنت کی بہت عادی ہے۔لاہور میں ایک سکھ نوجوان سے جو کہ بی۔اے پاس تھا اور بانسوں اور رسیوں کی دوکان کرتا میں نے پوچھا کہ آپ ملازمت کیوں نہیں کر لیتے۔وہ کہنے لگا کہ میرے دو سرے ساتھیوں