مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 440
440 ہمارے طالب علموں کی پڑھائی کی موجودہ حالت بہت قابل افسوس ہے اور ہمارے سکول کے نتائج اس وقت تمام سکولوں سے بد تر ہیں۔میں نے نظارت تعلیم و تربیت کو یہ ہدایت کی ہے کہ صرف ان استادوں کو ترقیاں دی جائیں جن کے نتائج اوسط سے پانچ فیصد کی زیادہ ہوں۔اس پر ناظر صاحب تعلیم مجھے ملنے آئے اور کہا کہ آپ کے مقرر کردہ قاعدہ کے مطابق تو سارے سکول میں صرف ایک استاد ایسا ہے جسے ترقی مل سکتی ہے۔میں نے کہا کہ سارے پنجاب میں میٹرک کے نتیجہ کی اوسط ۷۶ فیصدی ہے۔گورنمنٹ سکولوں کا نتیجہ تو۹۹ فیصدی بلکہ بعض کاسو فیصدی ہے لیکن آپ کہتے ہیں کہ اوسط پر پانچ فیصدی زائد کرنے سے صرف ایک استاد کو ترقی مل سکتی ہے۔اچھا آپ ان استادوں کو ترقیاں دے دیں جن کا نتیجہ اوسط کے برابر ہو تو وہ کہنے لگے۔اس قاعدہ کے ماتحت بھی صرف دو استاد آتے ہیں۔پھر میں نے کہا کہ اچھا اوسط سے پانچ فیصدی کم پر ترقی دے دیں تو وہ کہنے لگے۔اس قاعدہ کے ماتحت بھی صرف چار استاد آتے ہیں۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ کیا باقیوں کو جماعت کے لڑکے فیل کرنے کی خوشی میں ترقیاں دی جائیں ؟ ہمارے استاد اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور لڑکوں کی نگرانی کی طرف کماحقہ توجہ نہیں کرتے۔اس میں شک نہیں کہ بہت حد تک نتیجہ کی ذمہ داری لڑکوں پر بھی ہے لیکن جہاں تک نگرانی کا تعلق ہے ، میں اس کی ذمہ داری استادوں پر ڈالتا ہوں کہ انہوں نے کیوں ان کی نگرانی نہیں کی۔جہاں تک شوق پیدا کرنے کا سوال ہے خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ طلباء کے لئے ایسے طریق سوچیں جن کی وجہ تے خدام میں تعلیم کا شوق ترقی کرے۔بہر حال نگرانی سب سے زیادہ ضروری چیز ہے۔پڑھائی کے وقت سب خدام گھروں میں بیٹھ کر پڑھائی کریں اور جو طالب علم یا ہر پھر تا ہوا پکڑا جائے اس سے باز پرس کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدام اس پر عمل کریں تو جن طالب علموں کو باہر پھرنے کی عادت ہے وہ خود بخود گھر میں سٹڈی کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ باہر تو پھر نہیں سکتے۔چلو کوئی کتاب ہی اٹھا کر پڑھ لیں۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے ” جاندے چور دی لنگوٹی ہی سہی" یعنی جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی۔اگر چور چوری کر کے بھاگا جا رہا ہو تو تم اس سے اور کچھ نہیں چھین سکتے۔تو اس کی لنگوٹی ہی چھین لو۔آخر کچھ نہ کچھ تو تمہارے ہاتھ آ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک فقیر تھا جو اکثر اس کمرے کے سامنے جہاں پہلے محاسب کا دفتر تھا، بیٹھا کرتا تھا۔جب اسے کوئی احمد کی احمد یہ چوک میں سے آتا ہوا نظر آتا تو کہتا۔ایک روپیہ دے دے۔جب آنے والا کچھ قدم آگے آجاتا تو کہتا اٹھنی ہی سہی۔جب وہ کچھ اور آگے آتا تو کہتا چونی ہی سہی۔جب اس کے مقابل پر آجاتا تو کہتا دو آنے ہی دے دے۔جب اس کے پاس سے گزر کر دو قدم آگے چلا جاتا تو کہتا ایک آنہ ہی سہی۔جب کچھ اور آگے چلا جاتا تو کہتا ایک پیسہ ہی دے دے۔جب کچھ اور آگے چلا جا تا تو کہتاد ھیلاہی سہی۔جب جانے والا اس موڑ کے قریب پہنچتا جہاں سے بیت اقصیٰ کی طرف مڑتے ہیں تو کہتا پکوڑا ہی دے دے۔جب دیکھتا کہ آخری نکڑ پر پہنچ گیا ہے تو کہتا مرچ ہی دے دے۔وہ روپیہ سے شروع کرتا اور