مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 439

439 آئندہ سات سالہ پروگرام اس کے بعد میں خدام کو اس طرح توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آئندہ سالوں میں ہاتھ سے کام کرنے کی و قار عمل روح کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور خدام سے ایسے کام کرائے جائیں جن میں وہ ہتک محسوس کرتے ہوں اور وہ کام انفرادی طور پر کرائے جائیں۔جس وقت قادیان کے تمام خدام جمع ہوں اور وہ سب ایک ہی کام کر رہے ہوں تو انہیں اس وقت کسی کام میں ہتک محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ان کے دو سرے ساتھی بھی ان کے ساتھ اسی کام میں شریک ہوتے ہیں لیکن اگر ایک خادم اکیلا کوئی کام کر رہا ہو اور اس کے ساتھی اسے دیکھیں تو وہ ضرور ہتک محسوس کرے گا۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ اجتماعی طور پر کوئی کام نہ ہو۔بے شک اجتماعی طور پر بھی ہو لیکن انفرادی کام کے مواقع بھی کثرت سے پیدا کئے جائیں۔مثلاً کسی غریب کا آٹا اٹھا کر اس کے گھر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کا چارہ اٹھا کر اس کے گھر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کی روٹیاں پکوا دی جائیں۔جب خادم روٹیاں پکوانے جائے گا تو دل میں ڈر رہا ہو گا کہ مجھے کوئی دیکھ نہ لے اور اگر کوئی دوست اسے رستے میں مل جائے تو اسے کہے گا میری اپنی نہیں فلاں غریب کی ہیں۔اس کا یہ اظہار کرنا اس بات کی دلیل ہو گا کہ وہ اس کام کو ہتک آمیز خیال کرتا ہے۔یہ پہلا قدم ہو گا۔اسی طرح بعض اور کام اسی نوعیت کے سوچے جاسکتے ہیں ایسے کام کرانے سے ہماری غرض یہ ہے کہ کسی خادم میں تکبر کا شائبہ باقی نہ رہے اور اس کا نفس مرجائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہر ایک کام کرنے کو تیار ہو جائے۔ایک اور بات جو بہت زیادہ توجہ کے قابل ہے ، وہ یہ ہے کہ خدام کی سختی کے ساتھ نگرانی کی تربیت و اصلاح جائے کہ وہ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ابھی تک محلوں سے اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ بعض خادم نمازوں میں ست ہیں اور باوجو د بار بار کہنے کے اپنی اصلاح نہیں کرتے۔زعماء کو چاہئے کہ ان کی طرف خاص توجہ کریں۔خدام کے عہدیداران ان کے پاس جائیں اور انہیں سمجھائیں۔اگر اس کے باوجود وہ توجہ نہ کریں تو محلہ کے پریذیڈنٹ اور دوسرے دوست انہیں سمجھائیں۔اگر اس کے بعد بھی وہ نمازوں میں ستی کریں تو ان کے نام میرے سامنے پیش کئے جائیں۔یہ ایک بہت ضروری حصہ ہے خدام الاحمدیہ کے پروگرام کا۔خدام الاحمدیہ کے پروگرام میں یہ بات بھی شامل ہونی چاہئے کہ خدام کی پڑھائی کا ذیار کیا جائے اور اس بات کی نگرانی کی جائے کہ کون کون خادم سٹڈی کے وقت گلیوں میں پھرتا ہے۔ا س بات کی نگرانی کے لئے کچھ خادم ہر روز مقرر کئے جاسکتے ہیں۔ان کو جہاں کوئی خادم بازار میں پھر تا ہوا مل جائے اسے پوچھیں کہ تمہارا سٹڈی کا وقت ہے اور تم بازار میں کیوں پھر رہے ہو۔اگر اس بات کی نگرانی کی جائے تو ایک تو طالب علموں میں آوارہ گردی کی عادت نہ رہے گی اور دوسرے وہ پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔